تَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنِّي رَسُوْلُ الله؟ قَالَ: لَا، وَلٰكِنِّي اُعَاهِدُكَ اَنْ لَا اُقَاتِلَكَ وَلَا اَ كُوْنَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُوْنَكَ فَخَلَّى سَبِيْلَهُ، فَاَ تَى اَصْحَابَهُ فَقَالَ:جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. (1)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے لیے گئے۔جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واپس ہوئے تو وہ بھی دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ آپ کے ہمراہ تھے۔واپسی میں اُن حضرات کو دوپہر کا وقت ایسی وادی میں ہوا جہاں بکثرت کانٹے داردرخت تھے۔سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیام کے اِرادے سے وہاں ٹھہر گئے۔پس صحابۂ کرام درختوں کاسایہ لینے الگ الگ مقامات پر چلے گئے۔حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ایک کانٹے دار درخت کے نیچے تشریف لائے اور اپنی تلواراُس پر لٹکا دی۔ ( راوی کہتے ہیں کہ ) ہم ابھی سوئے ہی تھے کہ اچانک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں بلایا، ہم حاضر خدمت ہوئے تو آپ کے پاس ایک اعرابی تھا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ میں سو رہا تھا کہ اِس نے مجھ پرمیری تلوارتان لی۔میں بیدارہوا تو اِس کے ہاتھ میں ننگی تلوارتھی، اِس نے کہا:آپ کومجھ سے کون بچائے گا؟ میں نےتین بار کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس سے کوئی بدلہ نہ لیا اوروہ بیٹھ گیا ۔
ایک روایت میں حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یوں فرماتے ہیں کہ ہم ’’ غزوۂ ذاتُ الرِّقاع ‘‘ میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے۔ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے تو وہ ہم نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے چھوڑ دیا۔مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی درخت پر لٹکی ہوئی تلواراُتار کرکہنے لگا: ’’ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ اس نےکہا: ’’ تمہیں مجھ سے کون بچائےگا ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘
ابوبکر اِسماعیلی کی جو رِوایت اُن کی صحیح میں ہےاُس روایت میں یوں ہے کہ اس نے کہا : ’’ تمہیں مجھ
________________________________
1 - مسند امام احمد، مسند جابر بن عبداللہ، ۵ / ۲۰۱، حدیث: ۱۵۱۹۲۔