Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
409 - 662
قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَاِ نَّهَا صَدَقَةٌ. (1) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی  ہے کہ حضورنبی کریم،  رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کیا فرماتے ہیں ، اگر اسے (صدقہ کے ‏لیے کوئی شے)  میسر نہ آئے؟  ‘‘ فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ سے کام کرے پھر خودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کرے۔  ‘‘ عرض کی:  ’’ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو؟  ‘‘ فرمایا: ’’ ضرورت مند، مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کی کیا رائے ہے اگراس کی بھی طاقت نہ ہو؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ نیکی یا  بھلائی  کا حکم دے۔ ‘‘  عرض کیا: ’’  اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  بُرائی سے بچے کہ یہ بھی صدقہ ہے۔ ‘‘ 
کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہیے:
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکورمیں تنگدست مسلمان کے ‏لیے اس بات پر تنبیہ ہے کہ کسی پر بوجھ نہ بنے،  بلکہ اپنے ہاتھ سے کام  کاج کر کے اپنے آپ پر خرچ کرے اور اسے صدقہ سمجھے۔امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:اے قاریوں کی جماعت! اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر چلو، اپنے سروں کو بلند رکھواورمسلمانوں پر بوجھ  نہ بنو۔ ‘‘  (2) 
نیکی پر قدرت نہ ہوتو۔۔۔!
حدیثِ مذکورمیں اس بات پربھی تنبیہ ہے کہ  ’’ مؤمن جب  کسی نیکی پر قدرت نہ پائےتو کوئی  ایسی نیکی کر لے جس پر اُسے قدرت ہو کیونکہ  نیکیوں اوربھلائیوں  کے دَروازےبہت زیادہ ہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے راستے بھی بے شمار ہیں ۔ ‘‘  (3) 
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ تنگدست و محتاج کوچاہیے کہ محنت مزدوری کرے،  اس  سے جواُجرت 



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع ۔۔۔الخ،ص ۵۰۴، حدیث:  ۱۰۰۸ماخوذا۔
2 -   عمدۃ القاری، کتاب البروالصلۃ، باب کل معروف صدقۃ،  ۱۵‏ / ۱۸۵، تحت الحدیث: ۶۰۲۲۔
3 -   عمدۃ القاری، کتاب البروالصلۃ، باب کل معروف صدقۃ،  ۱۵‏ / ۱۸۵، تحت الحدیث: ۶۰۲۲۔