Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
406 - 662
 سنتیں اور آداب ملاحظہ ہوں : (1)  ہرکھانے سے پہلے اپنے ہاتھ پہنچوں تک دھو لیں ۔ (2) جب بھی کھانا کھائیں تو الٹا پاؤں بچھا دیں اور سیدھا کھڑا رکھیں یا سرین پر بیٹھ جائیں اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھیں ۔  (3)  کھانے سے پہلے جوتے اتار لیں ۔ (4)  کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ لیں ۔ (5)  اگر کھانے کے شروع میں بِسْمِ اللہپڑھنا بھول جائیں تو یاد آنے پربِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہپڑھ لیں ۔ (6)  کھانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لی جائے تو اگر کھانے میں زہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّاثر نہیں کرے گا:  ’’ بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یَاحَیُّ يَاقَیُّوْمُیعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اے ہمیشہ سے زندہ وقائم رہنے والے۔ (7)  سیدھے ہاتھ سے کھائیں ۔ (8)  اپنے سامنے سے کھائیں ۔  (9)  کھانے میں کسی قسم کا عیب نہ لگائیں مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ،  کچا رہ گیا ہے ،  پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے بلکہ جی چاہےتو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔
کھانے کی  ’’ 40 ‘‘ نیتیں :
فَرما نِ مصطفےٰ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ’’ مسلمان کی نیّت اس کے عَمَل سے بہتر ہے۔ ‘‘  (1) شیخ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بیان کردہ کھانے کی چالیس40 نیتیں پیش خدمت ہیں : (۱، ۲) کھانے سے قبل اور بعد کا وُضو کروں گا  (یعنی ہاتھ، مُنہ کا اَگلا حصّہ دھوؤں گا اور کُلِّیاں کروں گا)   (۳) عبادت  (۴)  تِلاو ت  (۵) والدین کی خدمت  (۶)  تحصیلِ عِلمِ دین  (۷) سنّتوں کی تربیّت کی خاطِر مَدَنی قافِلے میں سفر (۸)  عَلاقائی دَورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت  (۹) اُمورِ آخِرت اور (۱۰)  حسبِ ضَرورت کسبِ حلال کےلیے بھاگ دوڑ پر قوّت حاصِل کروں گا  (یہ نِیّتیں اُسی صورت میں مُفید ہوں گی جبکہ بھوک سے کم کھائے،  خوب ڈٹ کر کھانے سے اُلٹا عبادت میں سُستی پیدا ہوتی،  گناہوں کی طرف رُجحان بڑھتا اور پیٹ کی خرابیاں جَنَم لیتی ہیں ۔)   (۱۱) زمین پر  (۱۲) دستر 



________________________________
1 -   معجم کبیر،یحییٰ بن  قیس،  ۶‏ / ۱۸۵، حدیث: ۵۹۴۲۔