Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
404 - 662
 نیک اعمال کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے،  ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:140 	                                              
کھانےپینےکےبعدحَمْدِ اِلٰہِی
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللَّهَ لَيَرْضٰى عَنِ الْعَبْدِ اَنْ يَاْكُلَ الْاَ كْلَةَ  فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا اَ وْيَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا. (1) 
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہےجو کھانا کھا کراس کی حمد کرے یا پانی پی کر اس کی حمد  کرے۔ ‘‘ 
کھانا کھاکر شکر بجالانا:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسےپسند فرماتاہےجو کھانا کھا کریاپانی پی کراس کی حمد کرے ۔”اَکْلَۃٌ“اگرہمزہ پرزبرپڑھیں تومعنی ہوگا:  کھانا مکمل کر کےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکرادا کرنا۔اوراگرہمزہ پرپیش  ہو”اُکْلَۃٌ“توپھر معنی  ہوگا: ہرلقمےپراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکرادا کرنااوریہ ادائے شکر  کابہت اعلیٰ درجہ ہے۔ لیکن پہلامعنی زیادہ موافق ہے۔ ‘‘  (2) 
اپنے ساتھیوں کی رعایت:
حضرت سَیِّدُنَا ابنِ مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقفرماتےہیں : ’’ سنت یہ ہےکہ کھانےکےبعدجب تک اس کے ساتھ کھانے والے فارغ نہ ہوجائیں ،  بلندآواز سے حمد نہ کرے،  کیونکہ ہوسکتاہےاس کی حمد سن کروہ



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الذکر والدعا والتوبۃ، باب استحباب حمد اللہ تعالی بعد الاکل والشرب، ص۱۴۶۳، حدیث: ۲۷۳۴۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الاطعمۃ، الفصل الاول، ۸‏ / ۳۵، تحت الحدیث: ۴۲۰۰۔