Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
403 - 662
 میں مصروفِ عمل نظر آتی ہے،  زبان کی سلامتی سے پورا جسم سلامت رہتا ہے،  بندہ جب صبح کو اٹھتا ہے تو جسم کے تمام اعضاء زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر آج کے دن تو صحیح رہی تو ہم سب بھی صحیح رہیں گے۔ کاش! ہم سب بھی زبان کا قفلِ مدینہ لگانے والے بن جائیں یعنی اپنی زبان سے فضول اور لغو کلام کرنے کی بجائے،  اچھی بات اور ذکر اللہ کرنے والے بن جائیں ،  یقیناً اس میں دنیا وآخرت دونوں کی بے شمار بھلائیاں پوشیدہ ہیں ۔
اللہ ہمیں کر دے عطا قفل مدینہ……… ہر ایک مسلماں لے لگا قفل مدینہ
یاربّ نہ ضرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں ……… اللہ زباں کا ہو عطا قفل مدینہ
بولوں نہ فضول اور رہیں نیچی نگاہیں ………آنکھوں کا زباں کا دے خدا قفل مدینہ
رفتار کا گفتار کا کردار کا دے دے ……… ہر عضو کا دے مجھ کو خدا قفل مدینہ
دوزخ کی کہاں تاب ہے کمزور بدن میں  ………ہر عضو کا عطار لگا قفل مدینہ
مدنی گلدستہ
 ’’ کعبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)	اَعمالِ صالحہ اورصدقات وخیرات کی برکت سے اِنسان  جہنم کی آگ سے آزاد ی حاصل کر لیتا ہے  ۔ 
(2)	اگر کوئی صدقہ وخیرات کے ‏لیے کوئی چیز نہ پائے تو   چاہیے  کہ اچھی گفتگو کرے  کہ یہ  بھی اس کے‏لیے صدقہ ہے ۔ 
(3)	جو شخصاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔ 
(4)	آدمی کو اپنی زبان احتیاط سے استعمال کرنی چاہیے کیونکہ  اکثر خطائیں  زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں صدقہ وخیرات کرنے،  نیک اعمال خود بھی کرنے اور دوسروں کو بھی