اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے آستانہ پر فریاد کی اورداد پائی۔اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ نے کیا خوب فرمایا:شعر
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہَرْنی داد
اِسی دَر پر شُتَرانِ ناشاد گِلۂ رَنج وعَنا کرتے ہیں
(کَلِمَۂ طَیِّبَہ) یہاں کلمۂ طیبہ سے مرادیا تو کلمۂ شہادت ہے یا اللہ کا ہر ذکر ہے یا فقیر سے اچھی بات کہہ دینا، معذرت کردینا، آئندہ کے لیے وعدہ کرلینا کہ ابھی کچھ نہیں جب کچھ ہوگا تب اِنْ شَآءَ اللہتم کو دیں گے۔ اسی کو قرانِ مجید نے قول معروف فرمایا ہے۔ ‘‘ (1)
اچھی بات سے متعلق4 فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ اچھی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھو اس طرح تم شیطان پرغالب آجاؤگے۔ ‘‘ (2) (2) ’’ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ اورقیامت کےدن پرایمان رکھتاہواسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھرخاموش رہے۔ ‘‘ (3) (3) ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندےپررحم فرماتا ہے جس نےاچھی بات کہی اوربھلائی کوپالیایاپھر بری بات کہنےسے خاموش رہا اورسلامتی کو پالیا۔ ‘‘ (4) (4) ’’ آدمی سے اکثرخطائیں اس کی زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ ‘‘ (5)
زبان کا قفلِ مدینہ لگائیے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی جو شخص اپنی زبان کو فضول اور لغو باتوں سے بچانے میں کامیاب ہوگیا یقینا ًاس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، اس نے سلامتی اور بھلائی کو پالیا ۔ اپنی زبان کو فضول اور لایعنی باتوں سے روکنا شیطان کے خلاف بہت بڑا ہتھیار ہے، جو اس ہتھیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے۔ مگر افسوس! آج ہماری اکثریت فضول باتوں میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرنے
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۸ / ۱۱۸،۱۲۰ملتقطا۔
2 - الترغیب والترھیب ،کتاب الادب وغیرہ، باب الترغیب فی الصمت۔۔۔الخ، ۳ / ۳۴۱، حدیث: ۲۹۔
3 - مسلم ، کتاب الایمان ،باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔الخ ، ص۴۴، حدیث: ۴۸۔
4 - کشف الخفاء ،۱ / ۳۷۷،حدیث: ۱۳۷۲۔
5 - شعب الایمان ،باب فی حافظ اللسان ، فصل فی فضل السکوت عمالایعنیہ، ۴ / ۲۴۰،حدیث: ۴۹۳۳۔