Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
401 - 662
 کرو اگرچہ آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو۔آخرت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بذات خود بغیر کسی واسطے کے لوگوں سے کلام فرمائے گا ۔بندہ دائیں جانب اپنے وہی نیک اَعمال دیکھے گاجو  دنیا میں کر چکا  ہے اوربائیں جانب اپنے وہ تمام بُرے اعمال دیکھےگاجودنیا میں کر چکاہے۔  (پس  اے لوگو!)  اعمالِ صالحہ کوجہنم سےچھٹکارے کا ذریعہ بناؤ،  اگر صدقہ کرنے کے ‏لیے کوئی چیز نہ پاؤ تواچھی بات کہہ کر کسی مسلمان کا دل خوش کرواورآگ سے نجات پاؤ۔ ‘‘  (1)  
 	مرقاۃالمفاتیح میں ہے: ’’ اچھی بات کے ذریعے جہنم کی آ گ سے بچو۔اس سے مراد یہ ہے کہ  ذکرو دعا کرو یاسائل سے اچھی بات کہو،  وعدہ پورا کرو، یااچھی اُمید کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا  کرو۔ ‘‘  (2) 
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا کلام فرمانا:
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’ حضرت عدی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)  صحابی ہیں ۔یہ حاتم کے بیٹے ہیں ۔یہ حاتم وہ ہے جومشہور سخی گزراہے۔آپ اپنے والدحاتم ابن عبد ابن سعدکی وفات کے بعدشعبان ۷ھ میں ایمان لائے،  بعد میں کوفہ میں رہے۔ حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)  کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔جَمل کے دن آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی تھی۔ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔۶۷ھ میں وفات پائی،  مقام فرقلیہ میں قبر ہے۔ (عنقریب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم میں سے ہرایک سے بلا ترجمان  کلام  فرمائے گا۔) یعنی تم لوگ قیامت میں براہ ِراست بِلاواسطہ اپنے ربّ سے کلام کروگے۔یہ کلام عربی زبان میں ہوگا۔قیامت کا سارا کاروبار بلکہ آج نامۂ اعمال کی تحریر، قبرمیں منکرنکیرکےسوالات سب عربی زبان میں ہیں ۔مرتے ہی انسان کی زبان عربی ہوجاتی ہے۔ربّ تعالٰی کے ہاں سرکاری زبان عربی ہے۔اس ‏لیے فرمایا کہ لوگ اپنی دنیاوی بولیاں نہ بولیں گے تاکہ ربّ کا عربی کلام انہیں سمجھانے کے لیے کوئی ترجمہ  کرنے والا درمیان میں ہو۔خیال رہے کہ حضورانور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم خودتو عربی بولتے تھے مگر ساری زبانیں سمجھتے تھے حتی کہ جانوروں کی بولیاں بھی سمجھ لیتے تھے اس لیے اونٹوں چڑیوں نے حضور صَلَّی



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱‏ / ۳۸۰۔ ۳۸۱، تحت الحدیث:  ۱۳۹ ملتقطا۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفضائل، باب علامۃ النبوۃ،۱۰‏ / ۱۳۴، تحت الحدیث: ۵۷۵۸۔