Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
398 - 662
حدیث نمبر:138   				
کسی کواپنی نفع بخش چیز دینے کی فضیلت
عَنْ اَبِی مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَال: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَرْبَعُوۡنَ خَصْلَةً اَعْلَاهَا مَنِيۡحَةُ الْعَنْزِ،  مَامِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَارَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيۡقَ مَوْعُوۡدِهَا اِلَّا اَدْخَلَهُ اللَّهُ  بِهَا الْجَنَّةَ. (1)  
 (قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:)  اَلْمَنِیْحَۃُ،  اَنْ یُّعْطِیَہُ اِیَّاھَا لِیَاۡکُلَ لَبَنَھَا ثُمَّ یَرُدَّھَا اِلَیْہِ.
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو محمدعبد اللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ 40خصلتیں ہیں اور ان میں سے سب سے اعلیٰ یہ ہے کہ کسی کو عاریۃً دودھ والی بکری دینا،  جو کوئی ان خصلتوں میں سے کسی خصلت پرثواب کی امید کرتے ہوئے اور جو اس پر وعدہ ہے اس کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘ 
 (علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتےہیں :) اَلْمَنِیْحَۃُ کسی  کوجانوردینا تاکہ وہ  اس  کا دودھ پی کر لوٹا دے ۔
 جنت  میں داخل کرانے والی خصلتیں  :
 عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَالفرما تے ہیں : ’’ بے شک مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے احادیث مبارکہ  میں غور کیا تو چالیس سے زائد خصلتیں پائیں ۔ان میں سے چند خصلتیں  بیان کی جاتی ہیں : (1) غلام آزاد کرنا  (2) دودھ والاجانور کسی مسلمان کوعاریتًادینا  (3) بھوکے کو کھانا کھلانا   (4) پیاسے کو پانی پلانا  (5) کسی مسلمان سے ملاقات  کے وقت  سلام کرنا  (6) چھینکنے والے کو جواب دینا  (7) راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا  (8)   کاریگر کی مددکرنا  (9)  کسی  کو رسی کا ٹکڑا دینا  (10)  کسی کو جوتے کاتسمہ دینا  (11) وَحشت زَدَہ کی وَحشت دُور کرنا۔ یعنی جووَحشت کے مقام پرہواسے مقامِ اُنس تک پہنچانا یا اچھی بات کے ذریعے  کسی کی وَحشت دُور کرنا  (12) کسی کی مصیبت کو



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الھبۃ وفضلھا التحریض، باب فضل المنیحۃ، ۲‏ / ۱۸۴، حدیث: ۲۶۳۱۔