کے لیے نیکی لکھتا ہے اور بایاں قدم رکھنےسے پہلے اُس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔اب چاہے تم میں سے کوئی مسجدکے قریب رہے یا دُور۔پھراگروہ مسجد میں حاضر ہو اورباجماعت نَماز ادا کرے تواس کی مغفرت کردی جا تی ہے اور اگر وہ مسجد میں حاضر ہواور کچھ رکعتیں نکل چکی ہوں اور بقیہ نماز مکمل کرلی تو اس کی بھی مغفرت کردی جائے گی اوراگر وہ مسجدمیں جماعت کی نیت سے حاضر ہوا لیکن جماعت ہوچکی تھی (پھر اس نے تنہا نَماز ادا کر لی ) تو اس کی بھی مغفرت کردی جا تی ہے۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
سَیِّدَہ ’’ فاطمہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نمازی کے لیے مسجد کی طرف پیدل جانے میں ثواب زیادہ ہے۔
(2) نیکی کرتے ہوئے جتنی زیادہ نیّتیں ہوں گی اتنا ہی زیادہ ثواب ملےگا۔
(3) مسجداللہ عَزَّ وَجَلَّ کا گھر ہےاوراس میں حاضر ہونے کے آداب ہیں ہر مسلمان کواُن آداب کا خاص خیال رکھنا چاہیے ۔
(4) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بہت زیادہ تکلیف کے باوجودباجماعت نماز ادا کیا کرتے تھے ۔
(5) نماز کے لیے مسجد آنے پر بھی ثواب ہے اور نماز پڑھ کر واپس جانے پر بھی ثواب ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے، جنت میں بلا حساب داخلہ نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - ابو داود ،کتا ب الصلوۃ، با ب ماجاء فی الھدی فی المشی الی الصلوۃ ،۱ / ۲۳۳، حدیث: ۵۶۳۔