مسجد کی طرف جانےسے متعلق چند ایمان افروز روایات:
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ لوگوں میں نماز کازیادہ ثواب پانے والاوہ ہے جس کا راستہ دراز ہو، پھر وہ جس کا راستہ دراز ہواور جو نماز کا انتظار کرے حتی کہ امام کے ساتھ پڑھے اس کا ثواب اس سے زیادہ ہے جو نماز پڑھے پھر سوجائے۔ ‘‘ (1)
(2) تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اورمسجد کی طرف کثرت سے آمدورفت اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا گناہوں کو اچھی طرح دھودیتا ہے۔ ‘‘ (2)
(3) پیکرِ حُسن وجمال، ، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جومسجد کی طرف چلا یامسجد سے واپس لَوٹا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر آمد ورفت پر اس کے لیے جنت میں ایک مہمان خانہ بنائے گا ۔ ‘‘ (3)
(4) رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا میں تمہاری ایسے عمل کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ گناہ مٹا تا اور درجات بلند فرماتاہے؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ ضرور ارشاد فرمائیے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ دُشواری کے وقت کا مل وضو کرنا، مسجد کی طرف کثرت سے جانا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظارکرنا، پس یہ گناہوں سے حفاظت کےلیے قلعہ ہے۔ ‘‘ (4)
(5) شہنشاہ ِمدینہ، قرارِقلب وسینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی کامل وضو کرے پھروہ نَمازکی طرف چلے تو اس کا دایاں قدم اٹھنےسےپہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس
________________________________
1 - مسلم ،کتاب المساجد،باب فضل کثرۃ الخطا الی المساجد،ص ۳۳۴،حدیث: ۶۶۲۔
2 - مستدرک حاکم ، کتاب الطھارۃ ، باب فضیلۃ تحیۃ الوضو، ۱ / ۳۴۲، حدیث: ۴۶۸۔
3 - مسلم، کتا ب المساجد ومواضع الصلوۃ، با ب المشی الی الصلوۃ۔۔۔الخ ،ص ۳۳۶، حدیث: ۶۶۹۔
4 - مسلم ، کتا ب الطھارۃ ، با ب فضل اسباغ الوضوء ، علی مکارہ، ص۱۵۱،حدیث: ۲۵۱۔