Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
395 - 662
 یَسُرُّ نِی اَنَّ مَنْزِلِیْ اِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ،  اِنِّیْ اُرِیْدُ  اَنْ یُکْتَبَ  لِیْ مَمْشَایَ  اِلَی الْمَسْجِدِ،  وَرُجُوعِی  اِذَا رَجَعْتُ اِلٰی اَہْلِیْ،  فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ اللّٰہُ  لَکَ ذَلِکَ  کُلَّہُ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ لَکَ مَااِحْتَسَبْتَ. (1)    
 (قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی)  اَلرَّمْضَاءُ:اَلْاَرْضُ الَّتِی اَصَابَہَا الْحَرُّ الشَّدِیْدُ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو مُنْذِر اُبَیّ بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ  ایک آدمی تھا،   میں نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ کوئی مسجد سے دُور رہتا ہو۔اس کی کوئی نماز خطا نہ ہو تی تھی۔ اسے کہا گیا یا میں نے اسے کہا کہ  ’’ تم ایک گدھاکیوں نہیں خریدلیتےکہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرو۔ ‘‘  اس نے کہا:  ’’ مجھےیہ پسند نہیں کہ میرا  گھر مسجد کے قریب ہو ، میں  چاہتاہوں  کہ مسجد کی طرف آتے ہوئےاوراپنے  گھر کی طرف جاتےہوئے میرے لیے ثواب لکھا جائے۔ ‘‘  حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے یہ سب تیرے ‏لیے جمع فرمادیاہے۔ ‘‘  ایک اورروایت میں یوں ہےکہ  ’’ تجھے تیری نیت کے مطابق ثواب ملے گا۔ ‘‘ 
 (امام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں ) الرَّمْضَاءُسےمرادوہ زمین ہےجہاں  سخت گرمی پڑتی ہو۔
مسجد کی طرف چلنے کا ثواب:
مذکورہ حدیث پاک میں بھی مسجد کی طرف چل کر نماز کے لیے جانے اور اس کے ثواب کا ذکر ہے،  نیز اس حدیث پاک میں ایک ایسے خوش نصیب شخص کا تذکرہ ہے جس کا گھر مسجد سے بہت دور تھا مگر اس کی کوئی نماز خطا نہ ہوئی تھی،  نیز جب اسے مسجد آنے جانے کے لیے سواری کا مشورہ دیا گیا تو اس نے حصولِ ثواب کی خاطر اس مشورے کو قبول نہ کیا۔یقیناً بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے گھر مسجد سے دور ہوتے ہیں لیکن وہ پھر بھی پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کی بھرپور سعی کرتے ہیں اور یقیناً بہت بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کے گھر مساجد کے بہت قریب ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بلا وجہ شرعی اُن کی جماعت بلکہ نماز تک قضا ہوجاتی ہےمَعَاذَ اللہ ۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین



________________________________
1 -   مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب فضل کثرۃ الخطا الی المساجد،ص۳۳۴، حدیث: ۶۶۳بتغیر۔