ترغیب وتحریص ہوگا۔ ‘‘ (1)
تفہیم البخاری میں ہے: ’’ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو خبر ملی کہ مسجد نبوی کے ارد گرد جگہ خالی ہوگئی ہےاور بنوسلمہ اپنے مکان چھوڑکر مسجد کے قریب منتقل ہوناچاہتے ہیں توآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا :مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا:جی ہاں ، یارسولَ اللہ! (صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) ہمارایہی ارادہ ہے۔فرمایا:اے بنی سلمہ!دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ اٰثَارُکُم، تین باریہ فرمایا۔ یعنی اپنےگھروں ہی میں رہوتمہارے قدموں کاثواب لکھا جائے گا۔اس پر وہ لوگ اپنے گھر میں ٹھہرگئے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ دُور سے چل کر مسجد میں آکر نماز پڑھنے میں ہرقدم پر ثواب ملتا ہےاوریہ کہ مسجد کے قریب مکان بنانا اچھا ہے کیونکہ سید عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بنو سلمہ کو منع نہیں فرمایا تھاصرف زیادہ ثواب کی ترغیب دلائی تھی اوریہ پسند نہ فرمایا کہ مدینہ منورہ کا ایک حصہ خالی ہوجائے۔ ‘‘ (2)
گھر مسجدسے دور :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔یعنی) تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے لیے۔ کیونکہ مسجد کی طرف ہرقدم عبادت ہےیاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اور علماء کی تصانیف میں لکھا جائے گا۔ واعظین اس پر وعظ کریں گے جو تمہارے واقعے سن کر دُور سے مسجدمیں آیا کریں گے، ان سب کا ثواب تمہیں ملا کرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجدسے دُور ہونا متقی کےلیے باعثِ ثواب ہے کہ وہ دُور سے جماعت کےلیے آئے گا۔ مگر غافلوں کے لیے ثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے۔ لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ منحوس وہ گھر ہےجس میں اذان کی آواز نہ آئے یعنی غافلوں کے لیے
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلوۃ، باب المساجد ومواضع الصلاۃ، ۲ / ۴۰۴، تحت الحدیث: ۷۰۰ ۔
2 - تفہیم البخاری ۱ / ۱۰۰۵۔