شخص کے قدموں کے برابر ہوجائیں جس کا گھرمسجدسے دور ہے۔تو کیا یہ دونوں فضیلت میں برابر ہوں گے؟ امام طَبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ دونوں فضیلت میں برابر ہیں ۔ ‘‘ اورحضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ’’ میں حضرت سَیِّدُنَا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ مسجد گیا توانہوں نے چھوٹے چھوٹے قدم رکھے اورفرمایا :میں چاہتا ہوں کہ ہمارے قدم مسجد کی طرف زیادہ ہوں ۔ ‘‘
علامہ بدرُالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغنیفرماتے ہیں : ’’ میں کہتا ہوں ، اگرچہ یہ حدیث زیادہ قدموں کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے لیکن اس سےفضیلت میں برابری لازم نہیں آتی کیونکہ آسانی سے اُٹھائے جانے والے قدموں کا ثواب ، مشقت سے اُٹھائے جانے والے قدموں کے ثوا ب کے برابر نہیں ہو سکتا ۔اپنی قریبی مسجد کو آباد رکھنا زیادہ اَولیٰ ہےاور جب قریبی مسجد کا امام بدعتی ہو، قرا ءت میں غلطی کرتا ہویاقوم اسے ناپسند کرتی ہوتو قریبی مسجد کو چھوڑ کردُوروالی میں جانا چاہیے ۔ حدیث مذکور میں یہ بھی بیان ہوا کہ جب اَعمال میں اِخلاص ہوتواُس کے اَثرات نیکیوں کے طورپر لکھے جاتے ہیں ۔ جوکثرتِ ثواب کا اِرادا رکھتاہوتواس کےلیے مسجد سے دُور سکونت اختیارکرنا بہتر ہے۔ ‘‘ (1)
مسجد کی طرف کثرت سے جانا:
عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ بنو سَلِمہ انصار کا ایک قبیلہ تھا۔ان کے گھر مسجد سےدورتھے۔یہ رات کے اندھیرے میں ، بارش کے وقت اور سخت سردی میں بھی باجماعت نماز کی کوشش فرماتے۔انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہوجانے کا ارادہ کیا تو سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اس بات کو ناپسند فرمایاتاکہ مدینہ کےاردگرد کی جگہ خالی نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک ہرقدم پر جو اجر ہے اس کی آپ نے انہیں رَغبت دلائی، یعنی قدموں کی کثرت ثواب میں زیادتی کا سبب ہے۔یا یہ مراد ہےکہ تمہاراعبادت میں کوشش کرنا کتابوں میں لکھا جائے گا اور لوگوں کے لیےباعثِ
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الاذان ، باب احتساب الاثار، ۴ / ۲۴۳، تحت الحدیث: ۶۵۶ماخوذا۔