اللّٰہِ! قَدْاَرَدْنَاذَلِکَ.فَقَالَ:بَنِی سَلِمَۃَ!دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ، دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ بِکُلّ خَطْوَۃٍ دَرَجَۃً. (1) رَوَاہُ مُسْلِمٌ. وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ اَیْضًا بِمَعْنَاہُ مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ قبیلہ بَنُوسَلِمَہ نے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کاارادہ کیا۔رسولِ اکرم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ خبر پہنچی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجدکےقریب منتقل ہونےکاارادہ رکھتے ہو؟ ‘‘ عرض کی: ’’ جی ہاں ! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ بنوسلمہ! تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ بنوسلمہ تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ ہرقدم پرایک نیکی ہے۔ ‘‘ امام مسلم نے اسے روایت کیاہےاورامام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نےبھی اسی مفہوم کوحضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت کیا ہے۔
جتنی مشقت زیادہ اتنا ہی ثواب زیادہ:
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ مسجد تک جانے میں قدموں کی کثرت ثواب کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔حضرت سَیِّدُنَاابوعبداللہ بن لُبابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےپوچھا گیا کہ ’’ ایک شخص اپنی مسجد چھوڑ کربڑی جماعت پانے کے لیے جامع مسجد جاتاہے تواس کا یہ عمل کیسا؟ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ اپنی مسجد کو نہ چھوڑے کیونکہ جامع مسجدمیں نماز پڑھنے کی فضیلت صرف جمعہ کےلیے ہے۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نئی مساجد چھوڑ کر پرانی مساجد کی طرف جاتے تھے۔سَیِّدُنَا امام حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس بات کو ناپسند فرماتے کہ کوئی اپنی قریبی مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں جائے۔امام قُرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا بھی یہی موقف ہے۔
جس کا گھر مسجد کے قریب ہواوروہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے مسجدجائے حتی کہ اس کے قدم اس
________________________________
1 - مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب فضل کثرۃ الخطا الی المساجد،ص۳۳۵، حدیث: ۶۶۴،۶۶۵ ماخوذا۔