ثواب ملے گا، جیسےکانٹالگ جانے پرثواب ملتاہے۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
’’ یااللہ ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) دستکارکی روزی حلال ہونے کے اعتبارسےزیادہ پاکیزہ ہے۔
(2) فی زمانہ کسبِ حلال کی تمام جائزاَنواع کی بڑی فضیلت ہےکیونکہ اس دورمیں لوگوں کوہر شےکی حاجت پڑتی ہے۔
(3) آخرت کے اجروثواب کادارومدارایمان پرہے اورکافرایمان سے خالی ہے۔لہٰذاآخرت میں کافر کےلیے کوئی اجرنہیں ۔
(4) ایساعمل کرنابھی کارِ ثواب ہے جس کافائدہ بعدمیں آنےوالےلوگوں کوہو ۔
(5) اگرکسی شخص کا مال چوری ہوجائےاوروہ اس پر صبر کرےتواس کو صدقہ کا ثواب ملےگا۔
(6) شرعی اَحکام میں عرف کابھی اعتبارکیاجاتاہےلہٰذاعرف کے احکام سے بھی واقفیت ہونی چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں رزقِ حلال کمانے کی توفیق عطافرمائے اور دوسروں کی محتاجی سے ہم سب کومحفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:136
مسجد کی طرف اُٹھنے والے ہرقدم پرنیکی
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:اَرَادَ بَنُوْ سَلِمَۃَ اَنْ یَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُمْ: اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ فَقَالُوْا:نَعَمْ! یَارَسُوْلَ
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۳ / ۹۹۔