ہمیشہ ثواب ملتارہےگا:
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ حضرت سَیِّدُنَاعلامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس پر اپنے کرم کی وُسْعَت فرماتاہے اسے موت کے بعدبھی اُسی طرح ثواب عطافرماتا ہے جس طرح اس کی زندگی میں عطافرماتاہے۔اورچھ چیزوں کاثواب قیامت تک ملتا رہے گا: (1) صدقۂ جاریہ (2) ایساعلم جس سے نفع اُٹھایا جائے۔ (3) نیک اولادجواس کےلیےدعاکرتی رہے۔ (4) درخت لگانا (5) کاشتکاری (6) سرحد کی حفاظت کرنا۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور کی فضیلت صرف درخت لگانے یا کاشت کاری کرنے والے کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ اس شخص کوبھی شامل ہے جو اُجرت دے کر درخت لگوائے یاکاشت کاری کروائے، یہاں تک کہ گندم کی جن بالیوں کووہ جمع کرنے سے عاجز آگیاجو گندم کاٹتے وقت گرگئیں اور انہیں انسانوں یاجانوروں نے کھالیاتو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہیں ۔ ‘‘ (1)
کانٹالگنے پر بھی ثواب :
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ (انسان، جانوریا کوئی اورچیز کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے) عرب میں دستور تھا کہ باغ والے مسافروں کو دو ایک پھل توڑ لینے سے منع نہ کرتے جیسے ہمارے ہاں بھی چنے کا سا گ کا ٹنے سے لوگ منع نہیں کرتے۔مسافر بھی اس دستور سے واقف تھے، وہ بھی چوری کی نیت سے نہیں بلکہ عُرفی اِجازت کی بنا پر دو چار دانے منہ میں ڈال لیتے تھے۔نیز کبھی جانور کھیت پر سے گزرتے ہوئے سبزے میں ایک آدھ منہ ماردیتے ہیں ۔سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اِن سب کو مالک کے لیے صدقہ قرار دیا۔کبھی بغیر نیت بھی ثواب مل جاتا ہے۔ (اور جو پھل چوری ہوجائیں تو وہ مالک کے لیے صدقہ ہیں ) صبرکرنے اوراس نقصان کو برداشت کرنے پر ضرور
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱ / ۳۷۵، تحت الحدیث: ۱۳۵۔