Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
388 - 662
 اور جہاں  کاروبار کی زیادہ ضرورت ہو وہاں تجارت افضل ہے اور جہاں دستکاری کی احتیاجی زیادہ ہو وہاں صنعت کاری افضل ہے،  اس زمانہ میں حالات کا مقتضیٰ یہ ہے کہ سب افضل ہیں ۔ ‘‘  (1)  
آخرت کااَجر:
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُایک مرتبہ اَخروٹ کا درخت لگا رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا : ’’ آپ تو بزرگی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں ، آپ کا وصال بہت قریب ہے ، اس درخت کے پھل  آپ نہیں  بلکہ دوسرے کھائیں گے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :   ’’ پھل اور لوگ  کھائیں گے اَجر  مجھے ملے گا۔ ‘‘  (2) 
بہت  جلد پھل مل گیا :
  منقول ہے کہ  ایک بوڑھا  شخص زیتون کا درخت لگا رہا تھا۔ بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا تو کہا : ’’ زیتون کا پھل  تو دیرسےآتا ہے اورتم بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکے ہو؟  ‘‘ بوڑھے نے  کہا:  ’’ ہم سے پہلےلوگوں نے  درخت لگائے  اورہم نےان کے پھل کھائےاوراب ہم  لگا رہے ہیں  تاکہ  ہمارے بعد والے  کھائیں ۔ ‘‘  بادشاہ نےکہا:  ’’ تم نے کتنی اچھی بات کہی ہے تمہیں چارہزاردرہم انعام دیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ بوڑھے شخص نے کہا:  ’’ اے بادشاہ! میرے درخت لگانے اور اس کے  دیر سے پھل  آنے  کی وجہ سےآپ کوتعجب ہوا حالانکہ مجھے اس درخت  کا بدلہ ( چار ہزاردرہم کی صورت میں )  بہت جلد مل گیا۔ ‘‘  بادشاہ نے پھراسے چارہزار درہم دے دئیے۔ بوڑھےنے کہا: ’’ اے بادشاہ!ہردرخت سال میں ایک  مرتبہ پھل دیتاہے،  میرے درخت نے تھوڑی ہی دیر میں دو مرتبہ پھل دے دیا۔ ‘‘  بادشاہ نے اسے مزید چار ہزار درہم دئیے اوریہ کہتے ہوئے چل دیاکہ اگر ہم یہاں کچھ دیر اور ٹھہر گئے تو ہماراخزانہ خالی ہوجائےگا ۔ (3) 



________________________________
1 -   تفہیم البخاری ۳‏ / ۵۵۶۔
2 -   شرح الطیبی، کتاب الزکوۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴‏ / ۱۲۲، تحت الحدیث: ۱۹۰۰۔
3 -   شرح الطیبی، کتاب الزکوۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴‏ / ۱۲۲، تحت الحدیث: ۱۹۰۰۔