کاشت کاری کی فضیلت کابیان ہے۔بعض نے اِس سے استدلال کیاہے کہ کاشت کاری روزی کمانے کاافضل ذریعہ ہے۔علمائے کرام کااِس میں اختلاف ہے کہ کمائی کا کونساذریعہ افضل ہے۔امام نوویرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ کاشت کاری افضل ہے۔بعض نے کہاکہ ہاتھ کے ہنرسے روزی کمانا افضل ہے۔اورایک قول یہ ہے کہ تجار ت افضل ہے۔اوراکثر احادیث ہاتھ سے کمانے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ۔جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابوبَردہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سوال کیا گیا کہ کونسی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ فرمایا:آدمی کا اپنے ہاتھ سے کا م کرنااور ہرجائزبیع۔اور اس افضلیت کی وجہ یہ ہےکہ حلال ہونے کے اعتبار سےیہ زیادہ پاکیزہ ہے اورفائدہ عام ہونے کے اعتبار سے زیادہ افضل کیونکہ اس کا فائدہ دوسروں کوبھی پہنچتا ہے۔لیکن درست یہ ہےکہ لوگوں کی حاجات مختلف ہونے کے اعتبار سے سب کے اَحکام مختلف ہیں ۔ مثلاًجب لوگوں کو غذا کی زیادہ محتاجی ہوتواس وقت زراعت افضل ہے تاکہ لوگوں پروُسعت ہوجائے۔اورجب تجارتی راستے منقطع ہونے کی وجہ سے لوگوں کواَشیاء کی زیادہ محتاجی ہوتو تجارت افضل، جب صنعت کی زیادہ محتاجی ہو تو صنعت افضل ہے۔نیزنیکی کرنے پر آخرت میں ثواب مسلمانوں ہی کو ملے گا کفارکو نہیں کیونکہ قربِ الٰہی صرف مسلمانوں ہی کوحاصل ہوگا۔ کافراگر صدقہ کرے یاراہ گیروں کےلیے مسافرخانہ بنوائےیا کوئی نیکی کا کام کرے تو آخرت میں اس کے لیے کچھ ثواب نہیں ۔جیساکہ منقول ہے: ’’ (کافر کوئی اچھا کام کرتا ہے) تو اس کے بدلے اسے دنیاہی میں رزق دے دیا جاتاہے اور اس کی دُنیوی تکالیف دُور کر دی جاتی ہیں ، آخرت میں اُس کے لیے کچھ اَجر نہیں ۔نیز حدیث مذکور سب مسلمانوں کو شامل ہے چاہےوہ آزاد ہوں یاغلام، فرمانبردارہوں یاگناہ گار، الغرض جو بھی مسلمان اِس حدیث پرعمل کرے گا فضیلت پائے گا ۔ ‘‘ (1)
شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رَضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ افضلیت لوگوں کے حال کے اِعتبار سے ہے، جہاں لوگ خوراک کے زیادہ محتاج ہوں وہاں زَراعت اَفضل ہے تاکہ لوگ قحط زدہ نہ ہوں
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب المزارعۃ، باب فضل الزرع والغرس اذا اکل منہ، ۹ / ۵، تحت الحدیث: ۲۳۲۰۔