Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
386 - 662
                        حدیث نمبر:135				
درخت لگاناصدقہ ہے
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْ مُسْلِمٍ  یَغْرِسُ غَرْسًااِلَّا کَانَ مَا اُکِلَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃً، وَمَاسُرِقَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃٌ، وَلَا یَرْزَءُہُ  اَحَدٌ  اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃٌ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:فَلَا یَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَاطَیْرٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ: لَا یَغْرِسُ مُسْلِمٌ  غَرْسًا، وَلَا یَزْرَعُ  زَرْ عًا،  فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ  وَلَا دَابَّۃٌ  وَلَا شَیْء ٌ  اِلّا کَانَتْ لَہُ صَدَقَۃً. وَرَوَیَاہُ جَمِیْعًا مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ. (1)   
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ جوبھی مسلمان کوئی  درخت لگائےتواس سے جو کھایا جائے وہ اس کے‏لیےصدقہ ہے اور جوچوری ہوجائے وہ بھی اس کے‏لیےصدقہ ہے بلکہ اگر کوئی اس میں نقصان کرے توبھی اس کے ‏لیےصدقہ ہے۔ ‘‘  مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ  ’’ مسلمان جودرخت لگائے پھر اس سے انسان، چوپائے اور پرندے کھائیں تووہ قیامت تک اس کے‏لیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے:  ’’ کوئی مسلمان درخت لگاتاہےاورکاشت کاری کرتاہےتو اس  سے انسان، چوپائےیا کوئی اورچیز  کھائے تو یہ اس کے ‏لیے صدقہ ہے۔ ‘‘ امام بخاری ومسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا دونوں ہی نے اسےحضرتِ سَیِّدُناانس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت  کیا ہے۔
اپنے ہاتھ سے کمانا اَفضل ہے:
عَلَّامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :  ’’ اس حدیث پاک میں درخت لگانے اور



________________________________
1 -   مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل الغرس والزرع،ص۸۳۹، حدیث: ۱۵۵۲ماخوذاً۔