حدیث نمبر:135
درخت لگاناصدقہ ہے
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْ مُسْلِمٍ یَغْرِسُ غَرْسًااِلَّا کَانَ مَا اُکِلَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃً، وَمَاسُرِقَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃٌ، وَلَا یَرْزَءُہُ اَحَدٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃٌ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:فَلَا یَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَاطَیْرٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ: لَا یَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا یَزْرَعُ زَرْ عًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَا شَیْء ٌ اِلّا کَانَتْ لَہُ صَدَقَۃً. وَرَوَیَاہُ جَمِیْعًا مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ. (1)
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ جوبھی مسلمان کوئی درخت لگائےتواس سے جو کھایا جائے وہ اس کےلیےصدقہ ہے اور جوچوری ہوجائے وہ بھی اس کےلیےصدقہ ہے بلکہ اگر کوئی اس میں نقصان کرے توبھی اس کے لیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ’’ مسلمان جودرخت لگائے پھر اس سے انسان، چوپائے اور پرندے کھائیں تووہ قیامت تک اس کےلیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے: ’’ کوئی مسلمان درخت لگاتاہےاورکاشت کاری کرتاہےتو اس سے انسان، چوپائےیا کوئی اورچیز کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ ‘‘ امام بخاری ومسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا دونوں ہی نے اسےحضرتِ سَیِّدُناانس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔
اپنے ہاتھ سے کمانا اَفضل ہے:
عَلَّامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں درخت لگانے اور
________________________________
1 - مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل الغرس والزرع،ص۸۳۹، حدیث: ۱۵۵۲ماخوذاً۔