Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
385 - 662
 جومسجد کی طرف چلتے ہوئے اُٹھائے صدقہ ہے، نیز راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کردینا صدقہ ہے۔ ‘‘  (1)    
 (2)  ’’ تیرااپنے بھائی سےمسکرا کرملنا صدقہ ہے، تیرانیکی کاحکم کرناصدقہ ہےاوربرائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔پیچیدہ راستوں میں کسی کو راہ دکھانا صدقہ ہے، نابیناکی مددکرنا صدقہ ہے، راستےسے پتھر،  کانٹے  اور ہڈی دور کرناصدقہ ہے۔ا پنی پانی کی بالٹی  اپنے بھائی کو دے  دینا صدقہ ہے۔ ‘‘  (2)  
 (3)  ’’ ہرمسلمان پرصدقہ لازم ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی: ’’ اگراس کےپاس کچھ بھی نہ ہو؟  ‘‘ فرمایا: ’’ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے،  اپنے آپ کونفع دے اورصدقہ کرے۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتاہویا اس طرح نہ کرے؟  ‘‘ فرمایا:  ’’ توحاجت منداور مظلوم کی مددکرے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ اگر وہ یہ کام نہ کرے؟  ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ بھلائی کاحکم دے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ اگریہ بھی نہ کرے؟  ‘‘ فرمایا:  ’’ تو پھر شرپھیلانے سے رُکا رہے، اُس کے لیے وہی صدقہ ہے۔ ‘‘  (3) 
مدنی گلدستہ
مولا ’’ علی ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)	نیکی کرنے والوں کے ‏لیے نیکیوں  کےبے شمار مواقع ہیں  حتی کہ  بسا اوقات چھوٹے چھوٹے عمل بھی بڑی بڑی نیکیوں کا سبب بن جاتے  ہیں ۔ 
(2)	معمولی نیکی بھی اگر اخلاص کےساتھ کی جائے تو صدقے کا ثواب ملتاہے۔
(3)	بروز ِقیامت صرف عرشِ الٰہی کا سایہ ہوگااور صدقہ کرنے والے اس سائے  کے نیچے ہوں گے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیک اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب من اخذ بالرکاب ونحوہ، ۲‏ / ۳۰۶، حدیث: ۲۹۸۹۔
2 -   ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاءفی صنائع المعروف، ۳‏ / ۳۸۴، حدیث: ۱۹۶۳۔
3 -   بخاری، کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ،۴‏ / ۱۰۵، حدیث: ۶۰۲۲۔