مال خرچ کیے بغیرصدقے کاثواب:
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ سُبحانَ ﷲ!کیا ہمت اَفزا حدیث ہے، یعنی صدقہ صرف مال ہی سے نہیں ہوتا بلکہ ہر معمولی نیکی اگر اخلاص سے کی جائے تو اس پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے حتی کہ مسلمان بھائی سے میٹھی اور نرم باتیں کرنا بھی صدقہ ہے۔اب کوئی فقیر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صدقہ پر قادر نہیں ۔ ‘‘ (1)
تفسیر ابن کثیر میں ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِطاعت اور اُس کی مخلوق کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہوئے مالی طورپر کمزور لوگوں کی ضرورتوں کو اپنے زائد مال سے پورا کرناصدقہ ہے۔اورصحیحین کی حدیث میں ہے کہ سات لوگ قیامت میں عر شِ ا لٰہی کے سائے میں ہوں گے جس دن عر شِ ا لٰہی کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، ان سات میں ایک صدقہ کرنے والابھی ہےاورچھپا کر صدقہ کرنا بہترہے کہ حدیث پاک میں ہے: ’’ دائیں ہاتھ سے اس طرح صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ ‘‘ ایک اور حدیث میں ہے: ’’ صدقہ خطاؤں کواس طرح مٹا دیتاہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ‘‘ (2)
صدقے سے متعلق تین احادیثِ مبارکہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صدقہ کامفہوم بہت وسیع ہے اور یہ صرف مال خرچ کرنے کے ساتھ ہی خاص نہیں ہےبلکہ اِس کا اطلاق دیگر نیک اَعمال پر بھی کیاجاتاہے۔ اِس ضمن میں تین اِیمان اَفروز اَحادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:
(1) ’’ دومسلمانوں کے درمیان عدل وانصاف کرنا صدقہ ہے، سواری پر بٹھانے میں دوسرے کی مددکرنا یااُس کے سامان کواُس کی سواری پر رکھوانا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، اور ہروہ قدم
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۳ / ۹۵۔
2 - تفسیرابن کثیر، پ۲۲، الاحزاب ، تحت الایۃ: ۳۵، ۶ / ۳۷۳۔