ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے سرکارِ مکہ مکرمہ سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ ہر نیکی صدقہ ہے۔ ‘‘
معروف (نیکی) سے کیا مراد ہے؟
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ معروف کا معنیٰ بہت وسیع ہے ، اس میں وہ تمام کام شامل ہیں جو اچھے سمجھے جاتے ہیں ۔جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرنا، اس کا قرب حاصل کرنا ، لوگوں سے اچھاسلوک کرنا، لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا جبکہ جانتا ہو کہ لوگ اس سے منع نہیں کریں گے، انصاف کرنا، اپنےاہل وعیال اوردیگرلوگوں سےاچھے تعلقات رکھنااورلوگوں سےخندہ پیشانی سے ملاقات کرنا وغیرہ ۔ ‘‘ (1)
صدقہ کیا ہے؟
علامہ سیدشریف جُرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ جس عطیہ کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے ثواب حاصل کرنا مقصود ہووہ صدقہ ہے۔ ‘‘ (2)
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکوراس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بندے کا ہرنیک عمل اور اچھی بات صدقہ ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ مؤمن کو اس عمل خیر پرثواب دے گا۔ ‘‘ (3)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ معروف سے مرادہرقسم کی بھلائی ہے، چاہے وہ مال سے عطیہ کرنا ہویا حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہو یا ہر قسم کے ایسے اَقوال واَفعال جو عرفًا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لیے کیے جائیں وہ صدقہ ہیں یعنی ان کا ثواب صدقے کے ثواب کی طرح ہے۔ ‘‘ (4)
________________________________
1 - شرح طیبی ،کتاب الزکاۃ ،باب فضل الصدقۃ،۴ / ۱۱۷،تحت الحدیث: ۱۸۹۳۔
2 - التعریفات للجرجانی،ص۹۵ ۔
3 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ، ۹ / ۲۲۳۔
4 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکوۃ ، باب فضل الصدقۃ، ۴ / ۳۹۶، تحت الحدیث: ۱۸۹۳۔