تندرستی میں اُن چیزوں کا پابند ہو، حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیماری یا سفر میں فرائض معاف ہوجاتے ہیں ، وہ تو ادا کرنے ہی پڑیں گے اور اگر ر ہ گئے ہوں تو اُن کی قضاء واجب ہوگی۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جونیک اَعمال کا عادی ہواورپھربیماری یا سفر کی وجہ سے اُس سے نیک اعمال چھوٹ جائیں تو اُسے اللہ عَزَّوَجَلّ کے فضل وکرم سے اُن اَعمال کا ثواب دیا جائے گا۔
(2) جماعت سےنمازپڑھنے والااگرکسی عذرِشرعی کی وجہ سےجماعت میں شامل نہ ہوسکے مگر اس کی یہ نیت ہو کہ اگر عُذرِ شرعی لاحق نہ ہوتا تو جماعت میں ضرور شامل ہوتا تو رحمتِ الٰہی سے امید ہے کہ اسے بھی جماعت کاثواب ملے گا۔
(3) مریض اورمسافر سے فرض نماز ساقط نہیں ہوتی۔ اگر فرض چھوٹ جائیں تو قضاء لازم ہے ۔
(4) جو رات کو نفلی عبادت کرنے کا عادی ہواورکبھی نیند کے غلبے کی وجہ سے عبادت نہ کر سکے تو اسے اس رات بھی عبادت کا ثواب دیا جاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں استقامت کے ساتھ نیک اَعمال پر کاربند رہنے کی توفیق فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:134
ہر نیکی صدقہ ہے
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ. (2)
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۲ / ۴۱۳۔
2 - بخاری، کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ،۴ / ۱۰۵، حدیث: ۶۰۲۱۔