Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
381 - 662
یہ حدیث عُمُوم پر نہیں :
عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث عموم پر نہیں ہےبلکہ یہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو نفلی  عبادت کے عادی ہوں اورمرض یا سفر کی وجہ سے وہ نفلی عبادت نہ کر سکیں بشرطیکہ  ان کی یہ نیت ہو کہ اگروہ مقیم یا تندرست ہوتے تو یہ اَعمال ضرور بجا لاتے۔پس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایسے لوگوں پر فضل  فرماتا  ہے کہ   ان کے ‏لیے اس وقت  سے اَجر عطا فرماتا ہے  جب سے وہ  بیماری کی وجہ سے  یہ اَعمال بجا لانے سے قاصر رہے۔ بہر حال وہ شخص  جو نوافل اور دیگراَعمالِ صالحہ کا عادی نہ ہووہ اِس حدیث کے تحت داخل نہیں ۔ کیونکہ  اُس کےمرض نے اُسےکسی چیز سے نہیں روکا تو اُس کے ‏لیے اُس  عمل کا ثواب کیسے لکھاجائے گا جو اس نے کیا ہی نہیں ۔اور حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سےمروی  حدیث پاک بھی اِس بات پر دلالت کرتی ہےکہ حدیثِ مذکورنوافل کے بارے میں ہے۔کیونکہ اُن سے مروی  حدیث پاک کے یہ الفاظ ”اِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ“ نوافل  کےبارے  میں بولے جاتے ہیں فرائض  کے بارے میں نہیں ،  کیونکہ مریض اورمسافر سے فرض نماز ساقط نہیں ہوتی بلکہ مریض  بیٹھ کر نمازادا کر ے گااور مسافر قصر۔تواب مریض اور مسافر کے ‏لیے نوافل کااجر ہی لکھا جائے گا۔  (بشرطیکہ وہ  حالت  اِقامت وتندرستی میں نوافل کے عادی بھی ہوں )  جیسا  کہ حضور نبی  اَکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ’’ جورات  میں نماز پڑھنے  کا عادی ہواور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے‏لیے نماز کا ثواب لکھتا ہے اور نیند اُس کےلیے صدقہ ہوجا تی ہےاور اُس میں کوئی اِشکال نہیں ۔ ‘‘  (1) 
بیماری اورسفر میں فرائض معاف نہیں :
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ اگر بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ تہجد وغیرہ نوافل نہ پڑھ سکے یا جماعت میں حاضر نہ ہوسکے تو اُس کو اُن کا ثواب مل جائے گا بشرطیکہ 



________________________________
1 -   شرح بخاری لابن بطال، کتاب الجھاد، باب یکتب للمسافر ماکا یعمل، ۵‏ / ۱۵۴۔