نیک اَعمال پر ہمیشگی :
عمدۃ القاری میں ہے : ’’ یہ فضیلت اس شخص کے بارے میں ہے جو ہمیشہ نیک اَعمال بجالاتاہواوریہ نیت ہو کہ کوئی مانع نہ ہواتو پابندی کے ساتھ عمل کرتارہوں گا۔پھرسفر یا بیماری کی وجہ سے اگر نیک اعمال ادا کرنے سے قاصررہے تو اُس کے لیے اُن اَعمال کی مثل اَجرلکھا جائے گاجو وہ تندرستی و اِقامت کی حالت میں کیا کرتا تھااور یہی بات حدیث میں صراحتًا وارد ہوئی ہےکہ جب بندہ عبادات میں سے کسی اچھے طریقے کا عادی ہوپھر اسے کوئی مرض لاحق ہوجائےتو اس پر مقررفرشتےکوحکم دیاجاتا ہےکہ اُس کے لیے اُسی عمل کی مثل اَجر لکھو جو یہ تندرستی کی حالت میں کیا کرتاتھایہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے تندرست فرمادے یا موت آجائے ۔ ‘‘ (1)
ختم نہ ہونے والااجر:
عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ علامہ مُھَلَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ اس حدیثِ پاک کی اصل قرآن کریم میں موجود ہے، چنانچہ ارشادِباری تعالٰی ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ (۴) ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ (۵) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ (۶) (پ۳۰، التین: ۴ تا ۶)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا، پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا، مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بے حد ثواب ہے۔
یعنی ان کے لیے ختم نہ ہونےوالا اجر ہے۔تو اس سےمراد یہ ہےکہ بندے کو بڑھاپےاور کمزوری کی حالت میں اسی عمل کی مثل ثواب ملتارہے گا جو وہ حالتِ صحت میں کیا کرتا تھا۔اسی طرح بیماری اورسفر وغیرہ میں آنے والی آفات سے چھوٹنے والے اُن اَعمال پر بھی اُسے اجر ملے گا جن کا وہ عادی تھا ۔ ‘‘ (2)
________________________________
1 - عمدۃ القاری،کتاب الجھاد والسیر،باب یکتب للمسافرمثل ۔۔۔الخ، ۱۰ / ۳۰۹، تحت الحدیث: ۲۹۹۶۔
2 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الجھاد، باب یکتب للمسافر ماکا یعمل، ۵ / ۱۵۴۔