Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
38 - 662
 بختوں کے دل بھی اِن صفاتِ مذمومہ سے پاک ہوں گے۔چنانچہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ نرمی و کمزوری میں اُن کے دل پرندوں کی مثل ہوں گے جیساکہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ اہلِ یمن کے دل نرم اور کمزور ہیں ۔ ایک توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ان لوگوں کے دل خوف اور ڈر میں پرندوں کے دلوں کی طرح ہیں کہ پرندے باقی تمام جانوروں کے مقابلے میں زیادہ خوفزدہ رہتے ہیں ۔ (اسی طرح اُن لوگوں کے دلوں پر بھی خوفِ خدا کا غلبہ رہتا ہے اوروہ اُس کی ہیبت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ۔) جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے: )  اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ- (   (پ۲۲،  فاطر: ۲۸)  ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ ‘‘  (1) 
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ جنتیوں کو نرم و رحم دل اورمخلص ہونے اور حسد،  کینہ،  خیانت،  بغض سے خالی ہونے میں پرندوں سے تشبیہ دی۔اور ایک قول یہ ہے کہ توکل میں تشبیہ دی جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں مروی ہے: اگر تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر ایسا توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو وہ ضرور تمہیں رزق دے گا جس طرح پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر آتے ہیں ۔ ‘‘  (2) 
پرندوں کی چند خوبیاں :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’ چڑیوں کے دل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر توکل اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے۔مالک سے مانوس ہوتے ہیں ، اَغنیا سے متنفر کہ غیر کو دیکھا اور بھا گے۔ دلوں میں ڈر بہت زیادہ،  کینہ بغض اُن کے پاس نہیں ۔ جس اِنسان میں یہ صفات پیدا ہو جا ویں وہ تو فر شتہ بن جاوے ۔ ‘‘  (3) 



________________________________
1 -   شرح مسلم للنووی،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ،۹‏ / ۱۷۷،الجزٰ السابع عشر۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الفتن ،باب صفۃ الجنۃ واھلھا، ۹‏ / ۵۹۳، تحت الحدیث : ۵۶۲۵ملتقطا۔
3 -   مرآۃالمناجیح ،۷‏ / ۴۸۸۔