بندے پراُونگھ طاری ہوتی ہے، کھانا کھا لینے کی وجہ سے بدن بوجھل ہوجاتا ہےاوراس حالت میں نماز پڑھنا نفس پربہت گراں ہو تاہےلہٰذااس حالت میں نماز پڑھنا بلا عذاب جنت میں داخلے کاسبب ہے۔ ‘‘ (1)
دونمازوں کے بطور خاص ذکر کی وجہ:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں پرپانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔پھران دو نمازوں کو بطورِ خاص ذکر کیوں کیا؟ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ ان دو نمازوں کو خاص طور پر ذکر کرنے کا مقصود ان کی عظمت کو بیان کرنااوران کی محافظت پرترغیب دلاناہےکیونکہ ان نماز وں میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (2)
نزہۃالقاری میں ہے: ’’ (دو ٹھنڈی نمازوں ) سےمرادنمازِ عصر وفجرہےاورمرادپابندی کے ساتھ پڑھنا ہے۔ان دونوں نمازوں کی خصوصیت کی وجہ یہ ہے کہ فجر کا وقت سونے کا اور عصر کے بعد لوگ بازاروں میں خریدوفروخت میں مشغول ہوتے ہیں یا دوسرے کاموں میں۔نیز ملائکہ ان دونوں اوقات میں بدلتے ہیں جو ان نمازوں کاپابند ہوگااس کاآخری عمل جوخداکی بارگاہ میں پیش ہوگاوہ نماز ہوگی ۔علاوہ ازیں حضرت عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپرموقوف ایک حدیث میں ہے:نمازِصبح کےوقت مُنادِی نِدا دیتاہے: اے بنی آدم!اٹھواوراپنےاوپرجوجَلارہےہوبجھاؤ، اسی طرح نمازعصر کے بعدبھی یہ ندا دیتاہےاس پرجولوگ طہارت کرکے نمازپڑھ لیتے ہیں توجب سوتے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔ ‘‘ (3)
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر ، ۱ / ۳۷۳، تحت الحدیث: ۱۳۲ ملتقطا۔
2 - عمدۃ القاری، کتاب مواقیت الصلوۃ، باب فضل صلاۃالفجر، ۴ / ۱۰۰، تحت الحدیث: ۵۷۴۔
3 - نزہۃالقاری،۲ / ۲۵۷۔