Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
377 - 662
                        حدیث نمبر:132				
جَنَّت میں داخِلہ
عَنْ اَبِیْ مُوسَی الاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ.  (1) 
 (قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی)  اَلْبَرْدَانِ:اَلَصُّبْحُ وَالْعَصْرُ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اَشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسول کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نےدوٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ 
علامہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد فجر اورعصر کی نمازہے۔ ‘‘ 
ٹھنڈی نمازوں سےکیامرادہے؟ 
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ دو ٹھنڈی نماز وں سےمرادفجروعصر کی نمازیں ہیں ۔ جیسا  کہ مسلم شریف  کی روایت میں فجر  وعصر  کے الفاظ موجود  ہیں ۔ ‘‘ اما م خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھادِی  فرماتے ہیں : ’’ چونکہ یہ  دونوں  نمازیں دن کے ٹھنڈے  اوقات  میں  پڑھی جاتی ہیں ۔ان اوقات  میں ہوا خوشگوار ہوتی ہےاورگرمی کی شدّت ختم ہوجاتی ہےاس  ‏لیے ان نمازوں کوٹھنڈی نمازوں سےتعبیرکیا گیا۔ ‘‘ 
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ان دونمازوں  کو بطور خاص  ذکر  کرنے کی  وجہ یہ ہے کہ  فجر کاوقت میٹھی نیند کاوقت ہےاورعصرکا وقت  کام  کاج وتجارت کے اختتام اور رات کےکھانے کی تیاری  کا وقت ہوتا ہے۔ان تمام مشغولیت کے با وجود اس کا نماز ادا  کرنا سستی   سے دوری  اور  عبادت سے محبت پر دلیل ہے اور اس  سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ  دوسری نمازیں بھی پابندی سے ادا کرےگا  کیونکہ جب وہ  اتنی مشغولیت کے باوجود یہ نمازیں ادا کر رہا ہے تو بقیہ نمازوں کی ان سے بھی زیادہ حفاظت کرے گا ۔ ‘‘ ایک قول یہ ہے کہ  ’’ دو  ٹھنڈی نمازوں سے مرادفجروعشاءکی نمازہے۔ چونکہ  عشاء کے وقت



________________________________
1 -   بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃالفجر، ۱‏ / ۲۱۰، حدیث: ۵۷۴۔