اورفرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے:میرے ان بندوں کودیکھوجنہوں نے ایک فرض ادا کرلیا اور دوسرے کے انتظار میں ہیں ۔ ‘‘ (1) (3) ’’ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا اس شہسوار کی طرح ہےجس نے اپنا گھوڑا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں باندھا اور یہ شخص اس گھوڑے کے پہلو سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرشتے اس پر سلامتی بھیجتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ کلام نہ کرے یا اپنی جگہ سے نہ اُٹھے۔ ‘‘ (2) (4) ’’ تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک نماز میں ہی ہوتاہے جب تک نماز اُسے روکے رکھتی ہے (یعنی وہ نماز کے انتظار میں ہوتا ہے) اور اس کے اپنی جگہ سے اٹھنے یا گفتگوکرنے تک ملائکہ عرض کرتے رہتے ہیں : ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما اور اس کی توبہ قبول فرما۔ ‘‘ (3)
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ عثمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس نیک کام میں مشقت زیادہ ہوتی ہےاس کااجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوتاہے۔
(2) نیک اَعمال سے ایمان میں ترقی ہوتی ہےاور جنت میں درجات بلند ہوتے ہیں ۔
(3) نماز کے انتظارمیں مسجد میں بیٹھنا گناہوں سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(4) اپنے بندوں کے نیک اعمال پر ربّعَزَّ وَجَلَّ فرشتوں کے سامنے فخرفرماتا ہے۔
(5) نماز کے انتظار میں بیٹھنے والوں کے لیے فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نماز کے انتظار جیسی عظیم سعادت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - ابن ماجہ ، کتاب المساجد والجماعات،باب لزوم المساجد ، ۱ / ۴۳۸، حدیث: ۸۰۱۔
2 - مسند امام احمد،مسند ابی ھریرۃ ،۳ / ۲۶۷، حدیث: ۸۶۳۳۔
3 - مسلم ،کتا ب المساجد ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ وانتظار الصلاۃ،۱ / ۳۳۳،حدیث: ۶۴۹۔