مشغول رہے اور اس کا دل مسجد میں لگا ہواوراسے نماز کی فکر ہویہی دائمی حضورِ قلبی ہے۔ ‘‘ (1)
رِباط سے کیا مراد ہے؟
اشعۃ اللمعات میں ہے: ’’ اصل میں دشمنانِ دین کو اسلامی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیےاسلامی سرحدوں کی حفاظت ونگہداشت کرنا رِباط کہلاتا ہے ۔یونہی مسلمانوں کا اسلامی سرحدات پر پہرہ دینے کی غرض سے بیٹھنا، اپنے گھوڑوں اوراپنےدلوں کو چوکس رکھنابھی رِباطکہلاتاہے۔تونمازکے انتظارمیں مسجد میں بیٹھنا سر حدِشیطان پر اور اس کے لشکر کے مقابل بیٹھنےکے مشابہ ہے تاکہ وہ دخل نہ دے سکیں اور (رِباط) کا ایک معنیٰ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ فرمان مذکورہ تینوں اَعمال کی طرف اشارہ ہو۔کیونکہ یہ تینوں اَعمال، شیطان کی راہ میں رُکاوٹ بنتے اورخواہشاتِ نفسانی کو مغلوب کردیتے ہیں ۔ ‘‘ (2) (اسی لیے انہیں رِباط کہا گیا ہو۔)
4فرامین مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر فرمایا، پھر نمازِ عشاء اَدا کرنے کے بعد صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی طرف رُخِ اَنور پھیر کر فرمایا: ’’ لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم جب سے نماز کا انتظار کررہے تھے نماز ہی میں تھے۔ ‘‘ (3) (2) حضرتِ سَیِّدُنَا عبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نمازِمغرب پڑھی، نماز کے بعد جانے والے چلے گئے اور جسے وہیں بیٹھنا تھا وہ دوسری نماز کا انتظار کرنے لگا۔ پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجلدی سے تشریف لائے اور فرمایا: ’’ تمہیں خوشخبری ہو! تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّنے آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ہے
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱ / ۳۷۲، تحت الحدیث: ۱۳۱۔
2 - اشعۃ اللمعات،کتاب الطھارت، الفصل الاول،۱ / ۱۹۶۔
3 - بخاری ، کتا ب الاذان ،باب من جلس فی المسجد ینتظرالصلوۃ،۱ / ۲۳۶، حدیث: ۶۶۱۔