Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
374 - 662
 طرف قدموں کی کثرت کرنا،  ایک نماز کے بعد دوسری نمازکا انتظار کرنااور تمہارے لیے یہی رِباط ہے۔ ‘‘ 
نامۂ اَعمال سے خطاؤں کا مٹنا:
حضرتِ سَیِّدُناقاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’  گناہوں کا مٹنامغفرت سے کِنَایہ ہے اوریہ بھی احتمال ہےکہ اس سے مراد نامۂ اَعمال سے خطاؤں کا مٹانا ہو۔ ‘‘  (1) 
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ خطاؤں سےمرادگناہ صغیرہ ہیں ،  نہ  (کہ) کبیرہ،  نہ  (ہی) حقوق العباد، مَحْوسے مراد ہےبخش دینایانامۂ اعمال سے ایسا مِٹادینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔درجوں سے مراد جنت کے درجے ہیں یادنیا میں ایمان کے درجے۔ (مَشَقَّت  کے وقت  کامل وضو کرنا ) اس سے مراد سردی یا بیماری یا پانی کی گِرانی کا زمانہ ہے یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا۔ (مساجد کی طرف قدموں کی کثرت)  اس ‏لیےکہ گھرمسجدسےدورہویاقدم قریب قریب ڈالے۔مطلب یہ ہے کہ ہروقت نماز مسجدمیں پڑھنا،  نمازکہ علاوہ وعظ وغیرہ کے لیے بھی مسجد  میں حاضری دینا مُوجِب ثواب ہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ خواہ مخواہ قریب کی مسجد چھوڑ کردُورجاکرنماز پڑھے۔ ‘‘  (2) 
مسجد  میں حاضری:
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ کثرت سے چلناعام ہے۔ چاہے مسجد سے گھر کی دوری کے سبب ہو یاپھر چھوٹے چھوٹےقدم چلنےکی وجہ سے ہواورمسجدکی طر ف جانا،  چاہے نماز کے‏لیے ہو یا پھر دیگر عبادات کے‏لیے۔ ‘‘  (3)  (دونوں صورتوں میں ثواب پائے گا۔) 
دلیل الفالحین میں ہے: ’’  (نماز کا انتظار کرنا)  باجماعت یامنفردنماز ادا کرنے کے بعد اگلی نماز کے وقت کایاجماعت کاانتظارکرتارہے۔چاہےمسجد میں بیٹھ کریاگھرمیں یا بازار میں یا کسی اور کام کاج میں 



________________________________
1 -   شرح مسلم للنووی،کتاب الطھارۃ ، باب فضل اسباغ الوضوء علی المکارہ،۲‏ / ۱۴۱، الجزء الثالث۔
2 -   مرآۃالمناجیح،۱‏ / ۲۳۳۔
3 -   مرقاۃ المفاتیح،کتاب الطھارۃ ،الفصل الاول،۲‏ / ۱۱،تحت الحدیث: ۲۸۲۔