Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
372 - 662
 ہوجاتے ہیں تو نمازوں اوردیگر نیک اعمال کے سبب کیا چیز معاف ہوگی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے امام بلقینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : لوگوں کی چنداقسام ہیں : (1) بعض وہ  خوش نصیب ہیں جن کے  گناہ  ہی نہیں  ہوتےتومذکورہ نیک اعمال ان کے ‏لیے بلندیٔ درجات  کا سبب ہیں ۔ (2) بعض وہ ہیں جن  کے صغیرہ گناہ ہیں لیکن وہ ان پراصرار نہیں کرتےتو ایسوں کے صغیرہ  گناہ محض اجتنابِ کبائرہی سےمعاف ہوجاتے ہیں بشرطیکہ  ایمان پر خاتمہ نصیب ہو۔ (3) بعض وہ ہیں جو صغیرہ گناہوں پر اصرار کرتے ہیں توایسوں کے گناہ اعمالِ صالحہ کے سبب معاف ہوجاتے ہیں ۔ (4) بعض وہ ہیں جن کےصغیرہ گناہ بھی ہیں اور کبیرہ بھی  تو اَعمالِ صالحہ کی بدولت ایسوں کے صغیرہ گناہ ہی معاف ہوجاتے ہیں ۔ (5) بعض وہ ہیں جن کے پاس  فقط کبیرہ گناہ ہوتے  ہیں تواَعمالِ صالحہ کی بدولت  صغیرہ گناہوں کی مقدار کے مطابق  کبیرہ گناہ معاف ہو جاتےہیں ۔ ‘‘  (1) 
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ یعنی نماز پنجگانہ روزانہ کے صغیرہ گناہ کی معافی کاذر یعہ ہے۔اگر کوئی ان نمازوں کے ذریعہ گناہ نہ بخشوا سکا تونمازِ جمعہ ہفتہ بھر کے گناہِ صغیرہ کاکفارہ۔ اگر کوئی جمعہ کے ذریعہ بھی گناہ نہ بخشواسکاکہ اُسےاچھی طرح ادانہ کیا تورمضان سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے۔لہٰذا اس حدیث پریہ اعتراض نہیں کہ جب روزانہ کے گناہ پنجگانہ نمازوں سے معاف ہو گئےتوجمعہ اوررمضان سے کون سے گناہ معاف ہوں گے۔خیال رہے کہ گناہِ کبیرہ جیسےکفروشرک،  زنا،  چوری وغیرہ یوں ہی حقوقُ العبادبغیرتوبہ و اَدائے حقوق معاف نہیں ہوتے۔خیال رہے کہ جواَعمال گنہگاروں کی معافی کاذریعہ ہیں وہ نیک کاروں کی بلندئ درجات کا ذریعہ ہیں ۔ چنانچہ، معصومین اورمحفوظین نمازکی برکت سے بلند درجے پاتے ہیں ، لہٰذاحدیث پریہ اعتراض نہیں کہ پھرچاہیے کہ نیک لوگ نمازیں نہ پڑھیں کیونکہ نمازیں گناہوں کی معافی کےلیے ہیں وہ پہلے ہی سے بے گناہ ہیں ۔ ‘‘  (2)  
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱‏ / ۳۷۰، تحت الحدیث: ۱۳۰۔
2 -   مرآۃالمناجیح،۱‏ / ۳۶۰۔