حدیث نمبر: 130
نمازورَمضان کی فضیلت
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ قَالَ:اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ، وَرَمَضَانُ اِلَی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ. (1)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ پانچ نمازیں اورایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اورایک رمضان دوسرے رمضان تک یہ اپنے درمیان میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے والے ہیں جب تک کبائر سے اجتناب کیا جائے ۔ ‘‘
نیکیاں گناہوں کاکفارہ ہیں :
شیخ عبدالحق محدِّ ثِ دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی مذکورہ نیک اَعمال درمیانی عرصے میں واقع ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں ، انہیں چھپالیتے ہیں اور مٹادیتے ہیں ۔جبکہ کبیرہ گناہ نہ توان نیکیوں سے چھپتے ہیں ، نہ معاف ہوتے ہیں بلکہ ان کے لیے توبہ درکارہے۔ ہاں صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں جب کہ ان سے حقوق العباد متعلق نہ ہوں ۔علمائےکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا:ان نیکیوں پر استقامت اور باربار دہرانے سے صغیرہ گناہوں کی بخشش کے بعد کبیرہ گناہوں میں بھی تخفیف ہوجاتی ہے اور اگر بندہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بالکل محفوظ ہوتو یہ نیک اعمال اس کے لیےبلنددرجات کا سبب بن جاتے ہیں ۔ ‘‘ (2)
فضل ربّ سےگناہوں کی معافی:
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ جمہورعلمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : اَعمالِ صالحہ کبیرہ گناہوں کو نہیں مٹاتےکیونکہ کبیرہ گناہ توبہ یا فضل الٰہی سے معاف ہوتے ہیں جبکہ صغیرہ گناہ اِجتنابِِ کبائر سے معاف
________________________________
1 - مسلم، کتاب الطھارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ۔۔۔الخ،ص۱۴۴،حدیث: ۲۳۳۔
2 - اشعۃ اللمعات،کتاب الصلوۃ، الفصل الاول،۱ / ۲۹۸۔