(1) کامل ایمان والے کبھی بھی باطل قوتوں سے نہیں ڈرتے، اُن کے دلوں میں صرف اور صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف ہوتا ہے۔
(2) حق کے مقابلے میں باطل چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو آخر کاربَرباد و رُسوا ہوتا ہے، جیت ہمیشہ حق ہی کی ہوتی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں یقینِ کامل جیسی عظیم دولت عطا فرمائے، ہماری تمام مشکلات اور مصیبتوں کو دور فرمائے، ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، ایمان کی سلامتی عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:77
جَنَّتِیُوں کے دِلوں کی حالت
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَقْوَامٌ اَفْئِدَتُہُمْ مِثْلُ اَفْئِدَۃِ الطَّیْرِ. (1)
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مثل ہوں گے۔ ‘‘
پرندوں کے دلوں سے تشبیہ کی وجہ:
حدیث مذکور میں اُن لوگوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح نرم و کمزور ہوں گے، جس طرح رزق کے معاملے میں پرندے اپنے پروَردگار پر توکل کرتے ہیں ایسا ہی توکل ان لوگوں کا ہوگا ۔جس طرح پرندوں کے دلوں میں حسد ، بغض ، کینہ وغیرہ نہیں ہوتا اس طرح اُن نیک
________________________________
1 - مسلم،کتاب الجنۃ۔۔۔الخ،باب یدخل الجنۃ اقوام۔۔۔الخ، ص۱۵۲۲، حدیث: ۲۸۴۰۔