عَنْہنے بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں اس کشف کے ختم ہو جانے کی دعا مانگی جو قبول ہوئی اور پھر آپ کو وضو کرنے والوں کے گناہ جھڑ تے نظر آنا بند ہو گئے۔ ‘‘ (1)
دل ودماغ کےگناہوں کی معافی:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اگرچہ انسان کان ، ناک ، منہ سب سے گناہ کرتا ہے مگر زیادہ گناہ آنکھ سے ہوتے ہیں جیسے اجنبی عورت یا غیر کا مال ناجائز نگاہ سے دیکھنا، اس لیے صرف آنکھ کا ذکر فرمایا۔ ورنہ اِنْ شَآءَ اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) چہرے کے ہر عضو کے گناہ منہ دھوتے ہی معاف ہوجاتے ہیں ۔چلنے سے مراد ناجائز مقام پر جانا ہے خیال رہے کہ یہاں صرف ان اَعضاء کے گناہوں کی ہی معافی مراد نہیں بلکہ سارے گناہ مراد ہیں حتی کہ دل و دماغ کے بھی گناہ، اِن اَعضاء کا ذکر اس لیے ہے کہ زیادہ گناہ اِنہیں سے صادر ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (2)
وضو کی فضیلت سے متعلق 5 فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ”قیامت کے دن میری اُمَّت اس حالت میں بلائی جائے گی کہ ان کے منہ اور ہاتھ، پاؤں آثارِ وُضوسے چمکتے ہوں گے تو جو چمک زیادہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے۔“ (3) (2) ”جو مسلمان وُضو کرے اور اچھا وُضو کرے پھر کھڑا ہو اور باطن و ظاہرسے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔“ (4) (3) ”تم میں سے جو کوئی وُضو کرے اور کامل وُضو کرے پھر پڑھے:اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗتواس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخِل ہو۔“ (5) (4) ’’ جو شخص وُضو پر وُضو کرے
________________________________
1 - المیزان الکبری ، الجزء الاول ، ص ۱۳۰ ۔
2 - مرآۃالمناجیح،۱ / ۲۳۴۔
3 - بخاری، کتاب الوضوء، باب فضل الوضوء۔۔۔ الخ، ۱ / ۷۱، حدیث: ۱۳۶۔
4 - مسلم،کتاب الطھارۃ،باب الذکر المستحب عقب الوضوء،ص ۱۴۴،حدیث: ۲۳۴۔
5 - مسلم، کتاب الطھارۃ با ب الذکر المستحب عقب الوضوء، ص۱۴۴، حدیث: ۲۳۴۔