کوئی جسم نہیں رکھتے کہ ان کا جسم سے نکلنا درست ہو۔ ‘‘
علامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ میں کہتا ہوں : ’’ ظاہر یہ ہےکہ اس عبارت کوحقیقی معنیٰ پر رکھاجائے کیونکہ گناہ ظاہروباطن کوسیاہ کرنے میں اثررکھتے ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے اصحابِ کشف و احوال اس پر مطلع بھی ہو جاتے ہیں اور وضو اس اثر ( گناہوں کی سیاہی) کو زائل کر دیتا ہے۔ ‘‘ پھر علامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے حجرِ اسودوالی حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا: ’’ مشرکین کے گناہوں کے اثر سے حجر اسود کا رنگ سیاہ ہو گیا ، تو جب گناہوں کا اثر حجرِ اسود پر ہو رہا ہے تو گناہ کرنے والے پر ان کا اثر بدرجہ اولیٰ ہو گا۔ یا پھر گناہ نکلنے سے مراد یہ ہے کہ گناہوں کی سیاہی نکل جاتی ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ عالَم مثال کے اعتبار سےگناہ بذاتِ خودجسم ہے عرض (1) نہیں کیونکہ جو چیز اس عالَم میں عرض ہے اس کےلیے عالَم مثال میں جسم وصورت ہے۔ ‘‘ (2)
گناہ جھڑنے کی حکایت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے وضو کے ذریعے جھڑنے والے گناہوں کو دیکھ لیتے ہیں ۔اس ضمن میں ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ فرمائیے۔حضر ت سَیِّدُنَاعلامہ عبد الوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ ایک مرتبہ سَیِّدُنَا امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جامع مسجد کوفہ کے وضو خانہ میں ایک نوجوان کو وضو کرتے دیکھا۔توفرمایا :اے بیٹے! ماں با پ کی نافرمانی سے توبہ کرلے ۔اس نے فوراًعرض کی:میں نے توبہ کی۔ایک اور شخص کے وضو ( میں استعمال ہونے والے پانی ) کے قطرے ٹپکتے دیکھےتو اس سےفرمایا:اے میرے بھائی! تو بدکاری سے توبہ کرلے۔ اس نے عرض کی:میں نے توبہ کی۔ایک اور شخص کے وضو کے قطرات ٹپکتے دیکھے تو فرمایا:شراب نوشی اور گانے باجے سننے سے توبہ کرلے ۔اس نے عرض کی :میں نے توبہ کی۔ چونکہ کشف کے باعث آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر لوگوں کے عیوب ظاہر ہو جاتے تھے لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - وہ چیز جو کسی دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہو جیسے سیاہی ، سفیدی اور دیگر رنگ وغیرہ ۔
2 - دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر ،۱ / ۳۶۹، تحت الحدیث: ۱۲۹۔