الفاظ کچھ یوں ہیں : ’’ جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا اس کے سارے جسم کے گناہ نکل جاتے ہیں ، حتی کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں ۔ ‘‘ (1) ان دونوں میں مطابقت کچھ اس طرح ہو گی کہ جب بسم اللہ پڑھ کر وضو کیا جائے تو سارا بدن پاک ہو جاتا ہے اور بغیر بسم اللہ کے وضو کیا جا ئے تو صرف وہ ہی اعضاء پاک ہوں گے جو وضو میں دھلے ہوں گے۔ (2)
بطورِ خاص آنکھ کا ذکر کرنے کی وجہ:
حدیث پاک میں چہرے کے ساتھ بطور خاص فقط آنکھ کا ذکر فرمایا گیا دیگر اعضا ء کا ذکر نہیں کیا گیا، شارحین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کی چندوجوہات بیان فرمائی ہیں : (۱) اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ چونکہ آنکھ دل کی جاسوس اور رہنماہے، جب اس کا ذکر کر دیا تو اب کسی اور عضو کے ذکر کرنے کی حاجت نہ رہی ۔ (۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ وہم ہو سکتا تھا کہ وضو سے آنکھ کے گناہ معاف نہیں ہوں گے کیونکہ وضومیں آنکھ کا اندورونی حصہ نہیں دھویا جاتا ، لہٰذا آنکھ کے گناہ معاف ہونے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ (۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ چونکہ د یگر تمام اعضاء کی اپنی اپنی طہارت ہے جیسے ناک کی طہارت اس میں پانی ڈالنا ، منہ کی طہارت کلی و غرغرہ کرنا ، کانوں کی طہارت ان کا مسح کرنا وغیرہ لیکن آنکھوں کی علیحدہ سے کوئی طہارت نہیں اس لیےانہیں چہرے کے ساتھ ذکرکردیا۔ (3)
وضو سے گناہوں کی سیاہی دُور ہوتی ہے :
د لیل الفالحین میں ہے : وضو کی وجہ سے اعضائے وضو کے گناہ نکل جاتے ہیں ۔یعنی وہ صغیرہ گناہ نکل جاتے ہیں جن کا تعلق حقوقُ اللہ سے ہے۔علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ یہ عبارت بطور اِستعارہ استعمال کی گئی ہے اور گناہ نکلنے سے مقصود گناہوں کو مٹانے اور ختم کرنے کا اعلان کرنا ہےورنہ گناہ
________________________________
1 - مسلم، کتاب الطھارۃ، باب خروج الخطایا مع ماء الوضوء، ص۱۴۹، حدیث: ۲۴۵۔
2 - مرقاۃ المفاتیح، کتاب الطھارۃ، الفصل الاول، ۲ / ۱۳، تحت الحدیث: ۲۸۵۔
3 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الطھارۃ، الفصل الاول ، ۲ / ۱۳،تحت الحدیث: ۲۸۵۔