Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
366 - 662
صغیرہ گناہ  مٹا  دیے جاتے ہیں :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں خطاء سے مراد صغیرہ گناہ ہیں نہ کہ کبیرہ، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ (اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ) جب تک وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہو۔ ‘‘ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے  فرمایا:  ’’ گناہ جھڑنے سے مراد گنا ہوں  کا معاف ہونا ہے کہ گناہ کوئی جسم نہیں رکھتے کہ جن کا نکلنا مُتَصَوَّر ہو ، یہاں  مجازاً  کلام کیا گیا ہےنہ کہ حقیقتاً۔ ‘‘  (1) 
گناہ جھڑنےکی کیفیت:
 اس حدیث کو موطا امام مالک میں مزید وضاحت کے ساتھ اس طرح ذکر کیا ہےکہ ’’ کلی کرتے وقت منہ سے گناہ نکلیں گے،  ناک صاف کرتے وقت ناک سے گناہ نکلیں گےاورچہرہ دھوتے وقت چہرے کے وہ تمام گناہ نکل جائیں گے جن کی طرف آنکھ سے دیکھا تھا، یہاں تک کہ پلکوں کے نیچےسے بھی،   ہاتھ دھوتے وقت ہاتھ کے ساتھ ناخُنوں کے نیچے کے گناہ بھی نکل جائیں گے اور سر کا مسح کرتے وقت سر کےگناہ نکل جائیں گے، یہاں تک کے کانوں سے بھی اور پاؤں دھوتے وقت پاؤں کے ساتھ پاؤں کے ناخُنوں کے گناہ بھی نکل جائیں گے۔ ‘‘  (2)  
عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ ابن ملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:وضو کرنے والاوضو کرتے ہی ان گناہوں سے پاک ہوجاتا ہےجو اعضاء ِوضو کے ذریعے کیے تھے۔ ‘‘  (3) 
دو اَحادیث میں تطبیق کی صورت:
اس حدیث سے ثابت ہورہاہے کہ وضو کرنے والے کے صرف اعضائے وضو کے گناہ معاف ہوتے ہیں  جبکہ حضرت  سَیِّدُنَاعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوالی حدیث میں سارے گناہوں کی معافی  کا بیان ہے جس کے



________________________________
1 -    شرح مسلم للنووی،کتاب الطھارۃ، باب خروج الخطایا مع ماء الوضوء ، ۲‏ / ۱۳۳، الجزءالثالث۔
2 -   اکمال المعلم، کتاب الطھارۃ، باب خروج الخطایا مع ماء الوضوء ، ۲‏ /  ۴۱، تحت الحدیث۲۴۴۔
3 -   مرقاۃ المفاتیح، کتاب الطھارۃ، الفصل الاول، ۲‏ / ۱۳، تحت الحدیث:  ۲۸۵۔