قبر سے بچا لیا جائے گااورخدا عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کچھ حساب نہ ہوگااور اس کے ساتھ گواہ ہوں گے یا مُہر ہوگی۔ ‘‘ (1) (6) ’’ جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمکدار دن۔ ‘‘ (2) (7) ”جو جمعہ کے دن نہائے اور جلدی آئے اور شروع خطبہ میں شریک ہو اور پیدل آئے، سواری پر نہ آئے اور امام سے قریب ہو اور کان لگا کر خطبہ سُنے اور لغو کام نہ کرے، اس کے ليے ہر قدم کے بدلے سال بھر کا عمل اورایک سال کے دنوں کے روزے اور راتوں کے قیام کا اجر ہے۔ ‘‘ (3) (8) ’’ جو جمعہ کے دن نہائے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور جب چلنا شروع کرے تو ہر قدم پر بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘ اور دوسری روایت میں ہے: ’’ ہر قدم پر بیس سال کاعمل لکھا جاتا ہے اورجب نمازسے فارغ ہوتو اسےدوسو برس کے عمل کا اجر ملتا ہے۔ ‘‘ (4)
مدنی گلدستہ
’’ نماز جمعہ ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) نمازِ جمعہ فرض ہے، شعارِ اسلام میں سے ہےاوراس کی فرضیت کاانکارکرنےوالا کافر ہے۔
(2) دورانِ خطبہ بات چیت کرناحرام ہے۔
(3) غسل جمعہ نمازِ جمعہ کے لیے مسنون ہے، نہ کہ جمعہ کے دن کے لیے۔
(4) جوشخص جمعہ کے دن غسل کرتاہے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں ۔
(5) جمعہ تمام دنوں کاسردار ہے۔
(6) جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو انتقال کرے گا اسے عذاب قبر سے بچالیا جائے گا۔
________________________________
1 - شرح الصدور للسيوطی، باب من لا يسئل فی القبر، ص۱۵۱۔
2 - مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ،۱ / ۲۶۶، حدیث: ۱۳۶۹۔
3 - مسندامام احمد ،حدیث اوس بن ابي اوس الثقفی،۵ / ۴۶۵، حدیث: ۱۶۱۷۳۔
4 - معجم کبير، ابو نصرۃ عن ابی رجاء عن عمران،۱۸ / ۱۳۹،حدیث: ۲۹۲،المعجم الاوسط، باب الجیم، ۲ / ۳۱۴، حدیث: ۳۳۹۷۔