علماءفرماتے ہیں کہ غسل جمعہ نماز کے لیے مسنون ہے نہ کہ دنِ جمعہ کے لیے۔ لہٰذاجس پر جمعہ کی نمازنہیں ان کے لیے غسل سنت نہیں ، ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔بعض فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل نمازِ جمعہ سے قریب کرو حتی کہ اس کے وضو سے جمعہ پڑھو۔مگر حق یہ ہے کہ غسلِ جمعہ کا وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔ (اور مزید تین دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ) یعنی دس دن کے گناہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔جتنا خشوع زیادہ، اتنا ثواب زیادہ یا اولًا آٹھ دن کی بخشش کا وعدہ تھا پھر دس دن کا وعدہ ہوا۔ ‘‘ (1)
جمعہ کی فضیلت پر 8فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بڑا ہے۔ اوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک عیدالاضحیٰ وعیدالفطر سے بڑاہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں :٭اللہ عَزَّوَجَلَّ نےاسی میں حضرت سَیِّدُنَاآدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پيدا کیا۔٭اور اسی میں زمین پر انہيں اتارا۔٭اور اسی میں انہيں وفات دی۔٭اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے وہ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔ ٭اور اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، کوئی مقرب فرشتہ، آسمان و زمین اور ہوا اور پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے نہ ڈرتا ہو۔ ‘‘ (2) (2) ’’ جمعہ کے دن جس ساعت کی خواہش کی جاتی ہے اسے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔ ‘‘ (3) (3) ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی مسلمان کو جمعہ کے دن بے مغفرت کیے نہ چھوڑے گا۔ ‘‘ (4) (4) ’’ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا، عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہیدوں کی مُہر ہوگی۔ ‘‘ (5) (5) ’’ جو مسلمان مرد یا مسلمان عورت جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے، عذابِ قبراورفتنۂ
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۲ / ۳۳۴ملخصا۔
2 - ابن ماجہ، ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا، باب في فضل الجمعۃ، ۲ / ۸، حدیث: ۱۰۸۴۔
3 - جامع الترمذي، کتاب الجمعۃ، باب ماجاء في الساعۃ۔۔۔الخ، ۲ / ۳۰، حدیث: ۴۸۹۔
4 - المعجم الاوسط، باب العین، من اسمہ عبد الملک، ۳ / ۳۵۱، حدیث: ۴۸۱۷۔
5 - حلیۃ الاولیاء، محمد بن منکدر، ۳ / ۱۸۱۔