کے لیے کچھ شرائط ہیں ۔چنانچہ یہ نماز مسلمان، مرد، عاقل، بالغ، آزاد، تندرست، شہری پر فرض ہے، اس کی ادا کے لیے جماعت، آزاد، جگہ، شہراور خطبہ شرط ہیں ۔ گاؤں والوں پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ ‘‘ (1)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ حدیثِ مذکورمیں اشارہ ہے کہ ( جمعہ ) کے دن غسل کرنا سنت ہے واجب نہیں اور وضو کرنے سے مراد سنن و مستحبات کا لحاظ رکھتے ہوئے کامل وضوکرنا ہے۔ ‘‘ (2)
دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا:
شرح مسلم میں ہے: ’’ جس نے کسی کنکری کوچھوا تو اس نے لغو کام کیا ۔ ‘‘ اس فرمان عالی میں خطبہ سننے کی حالت میں کنکریاں اورہر بیکار و بے فائدہ چیز کو چھو نے سے منع کیاگیا ہےاور اس طرف اشارہ ہے کہ دل اور تمام اَعضاءکی توجہ خطبہ کی طرف ہونی چاہیے۔یہاں لغو سے مراد باطل مذموم اور مَردُود چیزیں ہیں ۔ ‘‘ (3)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا لغو و باطل ہے کیونکہ ان کی وجہ سے بندہ خطبہ سننے سے غافل ہو جاتا ہے جیسا کہ گفتگو غفلت کا باعث بنتی ہے۔ کنکریاں چھو نے سےمراد ان سے کھیلنا یا بِلا ضرورت انہیں زمین پر ہموار کرناہے۔بعض نے کہا کہ اس سے مرادکنکریوں کو گھمانا اوربطور ِتسبیح استعمال کرنا ہے۔ ‘‘ (4)
غسل جمعہ کاوقت:
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ) دوسرے جمعہ سے مراد آئندہ جمعہ ہے یا گذشتہ ۔دوسرے معنیٰ زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابن خُزیمہ بلکہ ابو داؤد کی روایا ت میں ہے۔معلوم ہو اکہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ۔ ربّ تعالٰی فرماتا ہے: ( اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-) بعض
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۲ / ۳۱۷ ملخصا۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب التنظیف والتکبیر،۳ / ۴۷۵، تحت الحدیث: ۱۳۸۳۔
3 - شرح مسلم للنووی،کتاب الجمعۃ، باب فضل من استمع و انصت للخطبۃ ،۳ / ۱۴۷، الجزء السادس۔
4 - اشعۃ اللمعات ، کتاب الصلاۃ ، باب التنظیف والتکبیر ، ۱ / ۶۲۰۔