Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
361 - 662
(1)	آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ صرف جنتیوں کے احوال کو ملاحظہ فرماتے ہیں بلکہ بعطائے الٰہی جنتیوں  کے جنت میں جانے کے اَسباب کو بھی جانتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جنت میں لے جانے والے اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جہنمیوں والے اَعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔
 آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
               حدیث نمبر:128	                	
نمازِ جُمُعَہ کی فَضِیلت
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّاَ فاَحْسَنَ الْوُضُوۡ ءَ،  ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ،  فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ،  غُفِرَ لَہُ مَابَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ اَیَّام،  وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا. (1) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جووضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے،  پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے ‏لیے آئے اور خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے گناہ بھی اور جو کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔ ‘‘ 
جُمُعَہ کی وجہ تسمیہ:
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ چونکہ اس ( جمعہ کے ) دن میں تمام مخلوقات وجودمیں مجتمع ہوئی کہ تکمیلِ خلق اِسی دن ہوئی۔نیز حضرت آدم (عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کی مٹی اسی دن جمع ہوئی، نیز اس دن میں لوگ نمازِ جمعہ جمع ہوکر ادا کرتے ہیں اِن وجوہ سے اسے جُمُعہ کہتے ہیں۔اسلام سے پہلے اہل عرب اسےعَرُوْبَہکہتے تھے۔نماز جمعہ فرض ہے۔شعار اسلام میں سے ہے۔اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے مگر اس کی فرضیت



________________________________
1 -   مسلم،کتاب الجمعۃ،باب فضل من استمع۔۔۔الخ،ص۴۲۷، حدیث: ۸۵۷۔