Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
36 - 662
 تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ جب تم کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو تو یہ پڑھو:حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل۔ ‘‘  اُمُّ الْمُؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بہت زیادہ غمگین ہوتے تو اپنے سراقدس اور داڑھی مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرتے اور گہرا سانس لے کر فرماتے:”حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل۔“حضرت سَیِّدُنَاشَدَّاد بن اَوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: ”حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل ہر خوف زدہ کی امان ہے۔ ‘‘  (1) 
صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں :  ’’ جو کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو اور وہ چار سو پچاس 450بار”حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل“ پڑھے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے اُس مصیبت سے نجات عطا فرمائے گا ۔ ‘‘  بعض لوگ روزانہ اتنی بار پڑھتے ہیں ،  مگر حق یہ ہے کہ ایک بار پڑھنا بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کافی ہوگا۔ ‘‘  (2) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ایک مُسَلَّمَہ حقیقت ہے کہ جو اَحکامِ خداوندی کی پابندی کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے پریشانیوں سے نجات عطا فرماتا ہے اور اُسے ایسے اَسباب مہیا فرماتا ہے کہ جن کے بارے میں وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں توکل ویقینِ کامل کی دولت سے مالامال فرمائے۔آمین
مدنی گلدستہ
 ’’ یاغَوث ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)	جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا۔
(2)	انبیاء کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام  توکل کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہوتے ہیں ۔ 
(3)	مَصائب وآلام سے خلاصی کے ‏لیے حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل بہترین وظیفہ ہے۔



________________________________
1 -    تفسیر روح المعانی، پ۴، آل عمران ، تحت الآیۃ:  ۱۷۳، الجزء الرابع، ص۴۶۳۔
2 -    تفسیرنعیمی،پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۷۳، ۴‏ / ۳۵۳۔