Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
359 - 662
 ہوئےاورجنت کی نعمتوں سے لطف اندوزہوتے ہوئے دیکھاکیونکہ اس نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا جولوگوں کے‏لیےتکلیف کاباعث تھا۔اس حدیث میں مُوذِی جانوروں کےقتل  کرنے اورتکلیف دہ  اشیا کو دور کرنے کی بھر پور ترغیب ہےخواہ وہ تکلیف کسی بھی وجہ سے ہو۔ ‘‘  (1) 
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’ وہ درخت بیچ راستے  میں تھاکنارے پر نہیں تھا۔ ممکن ہے کہ اس شخص کو اچھی نیت کی وجہ سے ہی جنت میں داخل کر دیا گیا ہواور اس نے درخت کاٹا نہ ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ کاٹ دیا ہو ۔ اس درخت کو  تکلیف دہ ہونے کی وجہ سے کاٹا گیا جیسا کہ لَا یُؤْذِیْھِمْسے معلوم ہو رہاہے۔ ‘‘  (2) 
مُوذِی چیز کو ختم کردینا جائز ہے:
علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ اس حدیث میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت ہےاوریہ ایمان کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔اوراس  حدیث میں ہر اس کام کی فضیلت ہے جو مسلمانوں کو نفع پہنچائے اوران سے تکلیف دور کرے۔ ‘‘  (3) 
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی وہ درخت خاردارتھا یا بے خار۔ اس کی جڑ راستہ کے کنارہ پر تھی مگر شاخیں راستہ پر پھیلی ہوئی تھیں ،  اس نے تکلیف دور کرنے کے لیے اسے جڑ سے ہی اکھیڑ دیا تاکہ آئندہ بھی شاخیں نہ پھیل سکیں اگر یہ درخت اس کی اپنی ملکیت تھا یا خود روتھا تب تو اس کے کاٹ دینے اور اس کی لکڑی گھر لے جانے پر کچھ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگر کسی غیر کی ملکیت تھا تو اس نے فقط دفع ایذا ء کے لیے کاٹ دیا ہوگا اس کی لکڑی پر قبضہ نہ کیا ہو گا۔ اس صورت میں اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوگا کہ مُوذی (ایذاء دینے والی)  چیز کو ختم کردینا جائز ہے اگرچہ دوسرے کی ملکیت ہو۔دیوانہ کتا جو کسی کا پالتو تھا، سرکس والوں کا بھاگا ہوا شیر،  سپیروں کا چھوٹا ہوا 



________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴‏ / ۴۰۳، تحت الحدیث: ۱۹۰۵۔
2 -   شرح الطیبی، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ ، ۴‏ / ۱۲۵، تحت الحدیث: ۱۹۰۵۔
3 -   دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱‏ / ۳۶۸، تحت الحدیث: ۱۲۷۔