Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
358 - 662
  سے  پیش  آنے کی توفیق  رفیق  مرحمت فرمائے،  نیز ہمیں جانوروں پر بھی رحم کرنے کی  توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:127 
راستےسےتکلیف دہ چیزہٹانےکی  فضیلت
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَن النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَقَدْرَاَیْتُ رَجُلًا یَتَقَلَّبُ فِیْ الْجَنَّۃِ فِیْ شَجَرَۃٍ قَطَعَہَا مِنْ ظَہْرِ الطَّرِیْقِ کَانَتْ تُؤْذِی الْمُسْلِمِیْنَ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَۃٍ عَلٰی ظَہْرِطَرِیْقٍ فَقَالَ: وَاللّٰہِ لَاُنَحِّیَنَّ ہَذَا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ لَا یُؤْذِیْہِمْ فَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ. (1)  وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیْقِ،  فَاَخَّرَہُ فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ. (2)  
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ،  سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بے شک!میں نےایک ایسے آدمی کوجنت میں سیرکرتے دیکھا جس نے اس درخت  کو کاٹا تھا جو کہ راستے میں تھا اور مسلمانوں  کی تکلیف  کاباعث تھا ۔ ‘‘ اورایک روایت میں یوں ہے: ’’ ایک آدمی ایسے راستے سے گزراجس پر ایک خار دار شاخ تھی۔ وہ کہنے لگا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم میں اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔پس (اسی وجہ سے)  اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔ ‘‘  بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یوں ہے:  ’’ ایک آدمی کہیں  جا رہا تھا ،  راستے میں اسے ایک کانٹےدار شاخ ملی تو  اس نے اس شاخ کو  راستے سے ہٹا دیا،  پس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےاسے اس کا اجر عطا فرمایا اوراس کی مغفرت فرما دی۔ ‘‘ 
لوگوں سےتکلیف کو دُورکرنا:
عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اس شخص کو جنت میں  بڑے ناز سےچلتے



________________________________
1 -   مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل ازالۃ الاذی عن الطریق، ص،۱۴۱۰ ،حدیث: ۱۹۱۴۔
2 -   بخاری، کتاب الاذان ، باب فضل التھجیر الی الظھر،۱‏ / ۲۳۴، حدیث: ۶۵۲۔