Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
357 - 662
کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔ ‘‘  (1)  
مُوذِی جانورماردیناثواب  ہے:
 مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’ ترکلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اِس سے مُوذی جانورمستثنیٰ ہیں ۔ لہٰذا سانپ، بچھو،  شیروغیرہ کو ماردینا ثواب ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:  (1) ایک یہ کہ  (کبھی) گناہ کبیرہ بغیر توبہ  (بھی) معاف ہوسکتے ہیں ۔  (2)  دوسرے یہ کہ کبھی معمولی نیکی بڑے سے بڑے گناہوں کے بخشے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔  (3) تیسرے یہ کہ بعض صُوفیاء اپنے ہاں انسانوں کے لنگر کے ساتھ جانوروں کے دانے پانی کا بھی انتظام کرتے ہیں ،  اُن کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ‘‘  (2)  
مدنی گلدستہ
 ’’ غوث پاک ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)	مخلوق پر رحم کرنےکی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ گناہوں کو بخش دیتاہے۔
(2)	ہر جاندار سےبھلائی کرنےپرثواب ہے۔
(3)	رحمتِ خدا وندی  کی برکت سے  بڑے بڑے  گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
(4)	بسا اوقات کوئی چھوٹی سی  نیکی بھی بڑےگناہوں کو بخشوادیتی ہے۔
(5)	ہرانسان  سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ 
(6)	رضا ئے الٰہی  کے ‏لیے جو بھی نیک کام  کیا  جائے وہ کبھی رائیگا ں نہیں جاتا۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں اپنےمسلمان بھائیوں پرخوب شفقت کرنے اور ان کے ساتھ نرمی



________________________________
1 -   شرح مسلم للنووی، کتاب قتل الحیات ونحوھا، باب فضل ساقی البھائم ، ۷‏ / ۲۴۱، الجزء الرابع عشر۔
2 -   مرآۃالمناجیح،۳‏ / ۱۰۰۔