اسے ثواب دیا اور اس کی مغفرت فرماکر جنت میں داخل کردیا۔ ‘‘ بخاری ومسلم کی ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ ’’ ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگارہا تھا، قریب تھا کہ پیاس کی شدت اسے ہلاک کردیتی اسی اثنامیں بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نےاسے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اُتارااوراس سے پانی کھینچ کراس کتے کو پلادیا پس اسی وجہ سے اس کی مغفرت کردی گئی۔ ‘‘
مخلوق پررحم کرو:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں تمام مخلوق، مؤمن، کافر، جانور وں اورپرندوں پر رحم و نرمی کرنے پر ابھارا گیا ہےاوریہ اُن اَعمال میں سے ہے جن کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کے گناہوں کو معاف کرتااورخطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔ پس ہر عقل مند مسلمان کو چاہیے کہ وہ انسانوں اور تمام حیوانات کے ساتھ رحم دلی ونرمی سے پیش آئے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کوئی چیز بے کار نہیں بنائی اورہرشخص سے اس کی ملکیت اور رَعِیَّت (ماتحتوں ) کے بارے میں پوچھا جائے گا خواہ وہ انسان ہویاجانور، اگرچہ اپنا نہ ہو کیونکہ وہ اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جس کتے کو اس شخص نے جنگل میں پانی پلایا تھا وہ اس کا اپنا نہیں تھا مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی مغفرت فرمادی۔ ‘‘ (1)
ہرترجگر سے کیا مراد ہے؟
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ہر جاندارکے ساتھ بھلائی کرنے پرثواب ہے خواہ پانی پلا کر ہو یا کسی اور طرح ۔حدیث میں زندہ جانور کو تر جگر والا کہا گیا ہے کیونکہ مردار کا جسم اور جگر خشک ہوجاتا ہے۔ پس اس حدیث میں ہر اس جانور کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر اُبھارا گیا ہے جسے مارنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ہاں !جن کے قتل کا حکم دیا گیا ہے انہیں قتل کرنا ہی شریعت کی پیروی ہے۔حربی کافر، مرتداور فاسق جانور (یعنی، چوہا، کوا، بچھو، چیل، کاٹنےوالاکتا) اُنہیں قتل
________________________________
1 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس والبھائم، ۹ / ۲۱۹۔