حدیث نمبر:126
ہرتَرجِگرمیں اَجرہے
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیۡقٍ اِشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًافَنَزَلَ فِیْہَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاِذَا کَلۡبٌ یَلْہَثُ یَاْکُلُ الثَّرٰی مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ ہٰذَاالۡکَلۡبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِیْ کَانَ قَدْ بَلَغَ مِنِّیْ، فَنَزَلَ البِئْرَ فَمَلَاَخُفَّہُ مَاءً ثُمَّ اَمْسَکَہُ بِفِیْہِ، حَتّٰی رَقِیَ فَسَقَی الْکَلْبَ، فَشَکرََ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!وَاِنَّ لَنَا فِیْ الْبَہَائِمِ اَجْرًا ؟ فَقَالَ:فِیْ کُلِّ کَبِدٍرَطْبَۃٍ اَجْرٌ. (1) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ: فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ ، فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ. (2) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَاکَلْبٌ یُطِیْفُ بِرَکِیَّۃٍ قَدْ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ اِذاَ رَاتْہُ بَغِیٌّ مِنْ بَغَایَا بَنِیْ اِسرَائِیْلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَہَا فَاسْتَقَتْ لَہُ بِہِ فَسَقَتْہُ فَغُفِرَ لَھَا بِہِ. (3)
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ ایک دفعہ ایک آدمی کہیں جارہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا ، ا سں نے کنویں میں اترکر پانی پیا ، جب باہر آیا تو ایک کتا پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالے کھڑا تھا اور کیچڑ چاٹ رہاتھا ۔اس شخص نے کہا:اس کتے کو بھی اُسی طرح پیاس لگی ہے جس طرح مجھے لگی تھی۔ پس وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اسےمنہ میں پکڑ کر کنویں سے باہر آگیا اور کتےکو پانی پلایا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے عمل کا اسے صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا جانوروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنے) میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ ہرترجگرمیں اجر ہے۔ ‘‘ اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہےکہ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے
________________________________
1 - مسلم، کتاب السلام، باب فضل ساقی البھائم۔۔۔الخ، ص۱۲۳۲، حدیث: ۲۲۴۴۔
2 - بخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس والبھائم، ۴ / ۱۰۳، حدیث: ۶۰۰۹۔
بخاری، کتاب الوضوء، باب اذاشرب الکلب۔۔۔الخ، ۱ / ۸۳، حدیث: ۱۷۳۔
3 - بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب۵۶، ۲ / ۴۶۶، حدیث: ۳۴۶۷۔ مسلم، کتاب السلام، باب فضل ساقی البہائم۔۔الخ، ص۱۲۳۲، حدیث: ۲۲۴۵، ماخوذاً۔