(2) ’’ بے شک !ہر دین کا ایک خُلق ہوتا ہے اوراسلام کا خُلق حیا ہے ۔ ‘‘ (1) یعنی ہر اُمَّت کی کوئی نہ کوئی خاص خَصْلت ہوتی ہے جودیگرخصلتوں پر غالِب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خصلت حیاہے۔ اس لیے کہ حیاایسا خُلْق ہے جو اَخلاقی اچھّائیوں کی تکمیل، ایمان کی مضبوطی کاباعِث اور اس کی عَلامات میں سے ہے۔ (3) ’’ بے شک! حیااورایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں ، جب ایک اُٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ ‘‘ (2)
مدنی گلدستہ
’’ سَیِّدِ عَالَم ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) ایمان کی ستر 70سے زائد شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
(2) حیااَعمالِ خیرکی طرف لےجاتی اور گناہوں سے بچاتی ہے۔
(3) حیاایک ایساخلق ہےکہ جس پراسلام کامدارہے۔
(4) ایمان وہ درخت ہے کہ جس کی جڑمؤمن کے دل میں ہےاور اس کی شاخیں جنت میں ۔
(5) سختی وہ درخت ہے کہ جس کی جڑانسان کے دل میں اور شاخیں دوزخ میں ہیں ۔
(6) بدکلامی اورفضول گوئی نفاق کی دو شاخیں ہیں ۔
(7) حیا اسلام کا خلق، اِس اُمَّت کی خصلت، اَخلاقی اچھائیوں کی تکمیل اوراِیمان کی مضبوطی کا باعث ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ہمیشہ شرم وحیا جیسی دولت سے مالامال رکھے، ہمارے تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں کومعاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے اور بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - ابن ماجۃ،کتاب الزھد ، باب الحیاء ،۴ / ۴۶۰، حدیث: ۴۱۸۲۔
2 - مستدرک حاکم،کتاب الایمان، اذا زنی العبد خرج منہ الایمان، ۱ / ۱۷۶، حدیث: ۶۶۔