Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
353 - 662
سے حیادینی بُرائیوں سے روک دیتی ہے۔ اللہرسول سے شرم و حیاتمام بدعقیدگیوں ، بدعملیوں سے بچالیتی ہے۔ایمان کی عمارت اسی شرم و حیا پر قائم ہے۔درختِ ایمان کی جڑ مؤمن کے دل میں رہتی ہے اس کی شاخیں جنت میں ہیں ۔جوشخص زبان کابےباک ہوکہ ہر بُری بھلی بات بےدھڑک منہ سے نکال دےتو سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے اور اس میں حیانہیں ۔سختی وہ درخت ہے جس کی جڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دوزخ میں ۔جو حیا گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ کی اصل ہے اور جو غیرت و حیا اللہ کے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رُکن اعلیٰ ہےاورجوحیانیک اَعمال سے روک دے وہ بُری ہے۔ ‘‘  (1)  
حیا کی اقسام:
سَیِّدُنَا فقیہ اَبُواللَّیْث سَمَرقَنْدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :حیا کی دو قسمیں ہیں : (1)  لوگوں کے مُعامَلے میں حیا (2) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مُعامَلے میں حیا۔ لوگوں کے مُعامَلےمیں حیا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تُو اپنی نَظَر کو حرام اشیاء سے بچا  ئے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے مُعامَلے میں حیا کرنے سے مُراد یہ ہے کہ تو اُس کی نعمت کوپہچانے اور اُس کی نافرمانی کرنے سے حیا کرے۔ ‘‘  (2) 
حیاکے متعلق شرعی اَحکام:
حیاکبھی فرض وواجِب ہوتی ہےجیسے کسی حرام و ناجائز کام سے حَیا کرنا۔کبھی مُستَحب جیسے مکروہِ تنزیہی سے بچنے میں حیاکرنا اورکبھی مُباح جیسےکسی مُباحِ شَرْعی کےکرنےسےحیا۔ (3)  
حیاسےمتعلق3 فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
 (1)  ’’ حیااور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں اوربدکلامی اور فضول گوئی نفا ق کی دوشاخیں ہیں ۔ ‘‘  (4)  



________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح،۶‏ / ۶۳۷۔۶۴۱ملتقطا۔
2 -   تنبیہ الغافلین، باب الحیاء، ص۲۵۸۔
3 -   نزہۃ القاری ،۱‏ / ۳۳۴ملخصا۔
4 -   تر مذی، کتاب البر والصلۃ ،باب ماجاء فی العی۳‏ / ۴۱۴، حدیث:  ۲۰۳۴۔